تہران کی واشنگٹن پر شدید تنقید
ایران نے امریکا پر سخت زبانی حملہ کرتے ہوئے واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ تہران کے مطابق امریکا کا سفارتی مؤقف اب ایسی بنیادوں پر کھڑا ہے جہاں تعمیری بین الاقوامی بات چیت تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔
یہ سخت سفارتی بیان دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے چلی آ رہی گہری بے اعتماد کی فضا کو ظاہر کرتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب کوئی شخص یا حکومت مسلسل اپنے ہی بیان کردہ جھوٹ پر یقین کرنے لگے تو ایک ایسا مرحلہ آ جاتا ہے جہاں اس کے لیے حقیقت اور غلط بیانی کے درمیان فرق کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
واشنگٹن میں حقائق کا بحران
تہران کے اس بیان کا بنیادی ہدف وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے مغربی سفارتی حلقوں میں مبینہ طور پر گمراہ کن بیانیے بنائے جاتے ہیں۔ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے تجزیہ کار اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امن و امان براہ راست واشنگٹن اور تہران کے تعلقات سے جڑا ہوا ہے۔
- سفارتی فریب: ایرانی نقطہ نظر کے مطابق واشنگٹن کے ادارے اب اپنے ہی گھڑے ہوئے مفروضوں کے حصار میں قید ہیں۔
- حقائق سے دوری: مسلسل غلط بیانی کی وجہ سے فیصلہ ساز زمینی حقائق کا ادراک کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔
- تعطل: اس کشیدگی کی وجہ سے جوہری معاہدے یا علاقائی سلامتی پر کسی بھی قسم کی معنی خیز پیش رفت مشکل ہو چکی ہے۔
علاقائی استحکام پر اثرات
پاکستان سمیت پورے خطے کے عام شہریوں کے لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ ہمیشہ تشویشناک ہوتی ہے۔ جب بھی سفارتی دروازے بند ہوتے ہیں تو توانائی کی منڈیوں اور علاقائی تجارت پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
آپ کو آنے والے دنوں میں بین الاقوامی اداروں اور ثالثی کرنے والے ممالک کے ردعمل پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر یہ سفارتی تعطل مزید طول پکڑتا ہے تو مشرق وسطیٰ کے دارالحکومتوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے بیانات پر نظر رکھیں جو اکثر واشنگٹن اور تہران کے درمیان برف پگھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آنے والے ہفتے بتائیں گے کہ دونوں دارالحکومت عملی سفارت کاری کی طرف لوٹتے ہیں یا الزام تراشی کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
