پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والا نیا پاکستان سعودی ترکی دفاعی معاہدہ خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے امریکی اثر و رسوخ پر انحصار کم کر رہے ہیں اور باہمی تعاون کو ترجیح دے رہے ہیں۔

پاکستان سعودی ترکی دفاعی معاہدہ اور خطے کی بدلتی صورتحال

تہران کا ماننا ہے کہ یہ سہ فریقی دفاعی تعاون محض فوجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل تبدیلی ہے۔ طویل عرصے تک مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کا ڈھانچہ واشنگٹن کی ترجیحات کے گرد گھومتا رہا ہے۔ تاہم، اب یہ ممالک اپنے دفاعی معاملات میں خود مختاری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق، اس طرح کے اقدامات خطے کو اسرائیلی جارحیت سے پیدا ہونے والے عدم استحکام سے محفوظ رکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ اتحاد خطے میں ایک نئی طاقت کے توازن کو جنم دے رہا ہے جو بیرونی مداخلت کے بجائے مقامی سطح پر سکیورٹی مسائل حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔

عام پاکستانی پر اس کے اثرات

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت ایک متوازن خارجہ پالیسی کی جانب قدم ہے۔ ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنا کر پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • دفاعی خود مختاری: اس معاہدے سے ممالک کو انسداد دہشت گردی اور سمندری حدود کی حفاظت کے لیے بیرونی اجازت کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
  • صنعتی اشتراک: مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تبادلے سے پاکستان کی دفاعی صنعت کو فروغ مل سکتا ہے۔
  • سٹریٹیجک توازن: مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھ کر پاکستان اپنی سکیورٹی کے تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

آنے والے دنوں میں ہمیں اس معاہدے کے تحت مشترکہ فوجی مشقوں اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے معاہدوں کی توقع رکھنی چاہیے۔ یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ واشنگٹن اس پیش رفت پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک نازک موڑ ہے جہاں اسے اپنے پرانے اتحادیوں اور نئے علاقائی شراکت داروں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

مجموعی طور پر، تہران کا یہ بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امریکی سکیورٹی چھتری کا دور اب ختم ہو رہا ہے اور خطے کے ممالک اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرنے کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔