ایرانی حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے والی دو نامور خاتون فٹبالرز کو آسٹریلیا کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران آسٹریلوی شہریت کے سرٹیفکیٹس دے دیے گئے۔
ریاست کوئنزلینڈ کے دارالحکومت برسبین میں ہونے والی اس تقریب میں 34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ اور 22 سالہ فاطمہ پسندیدہ نے باضابطہ طور پر آسٹریلوی شہریت حاصل کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے اپنے وطن میں حکومتی دباؤ اور پابندیوں کے بعد آسٹریلیا میں پناہ لی تھی اور اب وہ وہاں ایک نئے عزم کے ساتھ اپنی زندگی اور کھیلوں کے کیریئر کا آغاز کر رہی ہیں۔ یہ پیش رفت ان کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے جو اپنے خیالات کی آزادی کی خاطر اپنے آبائی وطن سے دور رہنے پر مجبور ہیں۔
آسٹریلوی شہریت کا حصول اور قانونی عمل
چودہ سالہ عاطفہ رمضانی زادہ اور 22 سالہ فاطمہ پسندیدہ نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کوئنزلینڈ میں شہریت کی تقریب میں شرکت کی۔ برسبین کی مقامی انتظامیہ اور آسٹریلوی حکومت نے ان کی آمد کے بعد سے معاشرے میں ان کے انضمام کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا۔ اس سرکاری تقریب میں دونوں فٹبالرز کو شہریت کے کاغذات دیے گئے جس کے بعد وہ اب باضابطہ طور پر آسٹریلیا کی شہری بن چکی ہیں۔ ایران میں کھلاڑیوں کو اکثر حکومتی فیصلوں پر بات کرنے کی وجہ سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث بہت سے افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ایرانی خواتین کھلاڑیوں کے لیے چیلنجز
ان دونوں کھلاڑیوں کا آسٹریلیا کی شہریت حاصل کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایرانی خواتین اتھلیٹس کو اپنے ملک میں کتنے سخت حالات کا سامنا ہے۔ کھیلوں کے میدان میں اظہارِ رائے کی آزادی نہ ہونے کی وجہ سے کئی باصلاحیت کھلاڑی بیرونِ ملک پناہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عاطفہ اور فاطمہ کا یہ قدم دیگر ایسے ایرانی کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال ہے جو اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے دباؤ کا شکار ہیں۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اس طرح کے معاملات پر گہری نظر رکھتی ہیں تاکہ کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ دونوں فٹبالرز آسٹریلیا کے مقامی اور ریاستی کلبوں کی جانب سے پیشہ ورانہ سطح پر اپنے کیریئر کا آغاز کیسے کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، دیگر ممالک میں موجود جلاوطن کھلاڑیوں کے قانونی معاملات اور ان کی کھیلوں کی دنیا میں واپسی پر بھی بین الاقوامی کھیلوں کے حلقوں کی توجہ مرکوز رہے گی۔
