ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے اور اعلیٰ ترین قیادت کے ساتھ اختلافات سے متعلق گردش کرنے والی تمام افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کے استعفیٰ سے متعلق دعوے سراسر بے بنیاد ہیں اور ملکی اداروں کے درمیان کسی قسم کا کوئی تناؤ نہیں۔ پاکستان میں خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے حلقوں کے لیے تہران کی یہ سیاسی صورتحال انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کا اثر براہ راست دو طرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر پڑتا ہے۔
استعفے اور اندرونی اختلافات کی تردید
صدر پزشکیان نے ان تمام خبروں کو افواہ قرار دے کر مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وہ عہدہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ اختلافات کی خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک نے مشکل ترین حالات میں بھی قومی یکجہتی کو برقرار رکھا ہے اور تمام ملکی ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں معمول کے مطابق نبھا رہے ہیں۔
فوج سے مکمل رابطے کا دعویٰ
حکومتی نظم و نسق پر بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے بتایا کہ فوج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ حکومت کا رابطہ بالکل مکمل اور بلاتعطل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افواہ ساز عناصر ملک میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت میں انتظامیہ اور سکیورٹی ڈھانچہ ایک پیج پر ہیں اور قومی مفادات کے تحت کام کر رہے ہیں۔
سپریم لیڈر تک رسائی کی مشکل کا اعتراف
سیاسی ہم آہنگی کے دعوؤں کے باوجود صدر پزشکیان نے ایک بڑا انتظامی انکشاف کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطہ کرنا ’بہت مشکل‘ ہے۔ یہ بیان تہران کے اندرونی طاقت کے ڈھانچے اور سکیورٹی پروٹوکولز کی سختی کو ظاہر کرتا ہے، جو ملک کے منتخب صدر کے لیے بھی اعلیٰ ترین سطح پر فوری رسائی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
آئندہ کیا دیکھنا ہوگا
پاکستانی اور بین الاقوامی مبصرین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ تہران میں انتظامی امور اور قیادت کے درمیان رابطہ کاری کے یہ مسائل پالیسی سازی کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ آپ کو مشرق وسطیٰ کی سفارتی پیش رفت اور ایرانی سرکاری بیانات پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ خطے کی تازہ ترین صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے۔
