سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان نے کھلے عام عرفان پٹھان فیک بابر اعظم اسٹوری (irfan pathan fake babar azam story) کی گردش کرنے والی خبروں پر بات کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ایک وائرل کہانی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی کپتان نے ان سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا، مکمل طور پر من گھڑت ہے۔ پٹھان، جو اب ایک معروف کرکٹ تجزیہ کار ہیں، نے 7 اگست 2026 کو اس معاملے پر بات کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ کس طرح سوشل میڈیا ٹرولز اکثر مشغولیت بڑھانے کے لیے تنازعات پیدا کرتے ہیں۔

عرفان پٹھان فیک بابر اعظم اسٹوری کی حقیقت

یہ تنازعہ ایک وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی ویڈیو اور ان رپورٹس سے پیدا ہوا جن میں دونوں کرکٹ شخصیات کے درمیان تلخی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ پٹھان نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانیہ جان بوجھ کر انہیں بدنام کرنے اور دونوں ممالک کے شائقین کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی غلط معلومات کی مہمات ان عوامی شخصیات کے لیے ایک بار بار ہونے والا مسئلہ بنتی جا رہی ہیں جو سرحد پار کرکٹ کا تجزیہ کرتے ہیں۔

  • حقیقت: بابر اعظم کی جانب سے ہاتھ ملانے سے انکار کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
  • وضاحت کی تاریخ: 7 اگست 2026۔
  • سیاق و سباق: پٹھان نے واضح کیا کہ یہ واقعہ دراڑ ڈالنے کی ایک دانستہ کوشش تھی۔

سوشل میڈیا ٹرولز کا مقابلہ

آن لائن ہراسانی کے وسیع تر مسئلے پر بات کرتے ہوئے، پٹھان نے وضاحت کی کہ انہیں اکثر اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کو نشانہ بنانے والے مواد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کرکٹ شائقین پر زور دیا کہ وہ ان سنسنی خیز سرخیاں پر شک کریں جن میں معتبر ذرائع کا فقدان ہے۔ کھیل کے شائقین کے لیے، یہ ایک یاد دہانی ہے کہ کسی بھی وائرل کلپ کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں، کیونکہ ایڈٹ شدہ فوٹیج حقیقت کو بگاڑ سکتی ہے۔

شائقین کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کو کرکٹرز کے بارے میں ایسی وائرل کہانیاں ملیں، تو غلط معلومات پھیلانے سے بچنے کے لیے ان اقدامات پر عمل کریں:

  1. متعلقہ کھلاڑیوں کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز چیک کریں۔
  2. غیر تصدیق شدہ فین اکاؤنٹس کے بجائے معتبر نیوز آؤٹ لیٹس پر انحصار کریں۔
  3. ایسے مواد کے ساتھ مشغول نہ ہوں جو جان بوجھ کر نفرت یا غصہ پھیلانے کے لیے بنایا گیا ہو۔

جیسا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کھیل دیکھنے کے انداز میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں، اب یہ سامعین کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتساب کا مطالبہ کریں۔ آگے بڑھتے ہوئے، مبصرین توقع کر رہے ہیں کہ پلیٹ فارمز اس بات پر زیادہ شفافیت لائیں گے کہ وائرل غلط معلومات کو کیسے روکا اور ہٹایا جائے۔