پنجاب کے نہری نظام کے آخری حصوں پر آباد زرعی برادری کے لیے نہری پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ایک خوش آئند قدم ہے۔ آبپاشی محکمہ کی کرانہ ڈویژن کے ایگزیکٹو انجینئر (এক্সইএন) ملک امام بخش نے تصدیق کی ہے کہ موثر حکمت عملی اور مسلسل نگرانی کے ذریعے نہری پانی ڈویژن کے دور افتادہ ٹیل کے علاقوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔
دہائیوں سے نہری نظام کے آخری کناروں پر کام کرنے والے کسان پانی کی دائمی قلت کا شکار چلے آ رہے تھے۔ نہر کے اوپر والے حصوں پر موجود بااثر زمیندار اکثر اپنے حصے سے زیادہ پانی کھینچ لیتے تھے، جس سے نیچے کے علاقوں کی فصلیں سوکھ جاتی تھیں۔ آبپاشی حکام کی اس نئی انتظامی کوشش میں فیلڈ کی مسلسل نگرانی اور پانی کی سخت باری کے نظام کو لاگو کیا گیا ہے۔
کرانہ ڈویژن میں پانی کی فراہمی کی حکمت عملی
سرگودھا ضلع میں یہ بہتری کسی اضافی پانی کیدستیابی کے بجائے براہِ راست انتظامی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ حکام نے ڈویژن کے کمزور ذیلی حصوں کا نقشہ تیار کیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بہاؤ کی رفتار کہاں سب سے زیادہ کم ہوتی ہے۔ فیلڈ ٹیموں کو چوبیس گھنٹے ریگولیٹرز کی نگرانی پر مامور کرکے محکمے نے غیر قانونی پانی کے اخراج کو روکا ہے۔
مقامی کسانوں نے فصلوں کی گرتی ہوئی پیداوار کے حوالے سے ضلعی حکام کو بارہا درخواستیں دی تھیں۔ اہم فصلیں اور چارہ جات پانی کی قلت کے باعث شدید متاثر ہو رہے تھے۔ انجینئرز کی مسلسل نگرانی سے اب پانی کے آخری آؤٹ لیٹس تک باقاعدہ ترسیل بحال ہو گئی ہے۔
مقامی زراعت کے لیے اس کے معنی
قابلِ بھروسہ آبپاشی براہِ راست دیہی معاش اور ملکی غذائی تحفظ کو متاثر کرتی ہے۔ جب ٹیل کے علاقوں کو وقت پر پانی ملتا ہے، تو کسانوں کے وہ بھاری اخراجات بچ جاتے ہیں جو مہنگے ڈیزل ٹیوب ویلز پر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ زمینم دوز پانی کے ذخائر پر بھی حد سے زیادہ دباؤ کم ہوتا ہے۔
- پانی کے باقاعدہ بہاؤ سے کسانوں کے لاگت کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔
- بنیادی اجناس کو فصل کی خرابی سے تحفظ ملتا ہے۔
- زیر زمین پانی کے غیر یقینی ذرائع پر انحصار کم ہوتا ہے۔
ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ نہری پانی کی مستقل فراہمی سے زمین کی شوریت کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے، جو وسطی پنجاب کے کسانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پانی کے باقاعدہ فلاشنگ بہاؤ کے بغیر نمکیات کا جمع ہونا زمین کی زرخیزی کو تباہ کر دیتا ہے۔
کسانوں کو اب کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کی زمینیں کرانہ ڈویژن کے کسی ذیلیے کے ٹیل پر واقع ہیں اور اب بھی آپ کو خشک چینلز کا سامنا ہے، تو آپ کو سرگودھا میں مقامی ایکس ای این آفس میں باقاعدہ شکایت درج کرانی چاہیے۔ معائنہ فوری کرانے کے لیے آؤٹ لیٹ نمبر اور وقت کی خرابی کا ریکارڈ لازمی رکھیں۔
اپنی مقامی واٹر کورس ایسوسی ایشن کے اجلاسوں میں شرکت کریں۔ کسانوں کا آپس میں تعاون پانی چوری کے خلاف مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
آئندہ کن باتوں کا خیال رکھیں
کسانوں کو اس بات پر نظر رکھنی ہوگی کہ یہ انتظامی توجہ گرمیوں کی طلب کے عروج کے دوران بھی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ تاریخی طور پر، جب درجہ حرارت بڑھتا ہے اور اوپر کے علاقوں میں پانی کی کھپت بڑھتی ہے تو پانی چوری کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ سیزن کے آخر میں صفائی اور مرمت کے لیے محکمہ آبپاشی پنجاب کے شیڈول کا انتظار کریں۔
