پاکستان میں آبپاشی کی ٹیکنالوجی (irrigation technology in pakistan) پر جاری بحث ایک ایسا سیاسی بیانیہ بن چکی ہے جو سندھ میں پانی کی سنگین قلت کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا کام کر رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈرپ اور سپرنکلر ایریگیشن جیسے جدید نظاموں کو زراعت کے لیے 'گیم چینجر' قرار دیا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ ٹیکنالوجیز ان کسانوں کے لیے بے کار ہیں جن کے کھیتوں تک نہری پانی پہنچ ہی نہیں رہا۔
پاکستان میں آبپاشی کی ٹیکنالوجی کا زمینی تناظر
سندھ کے دور دراز اضلاع میں ایک عام کسان کے لیے مہنگی درآمدی ٹیکنالوجی محض ایک دکھاوا ہے۔ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ جدید آلات کا نہ ہونا نہیں، بلکہ نہری نظام کا بوسیدہ ہونا اور پانی کی منصفانہ تقسیم کا فقدان ہے۔ جب مرکزی نہروں میں پانی ہی موجود نہ ہو یا وہ چوری ہو جائے، تو جدید ترین سپرنکلر سسٹم بھی کسی کام کے نہیں رہتے۔
- انفراسٹرکچر کا خلا: نہروں کی لائننگ اور صفائی کے نظام کو دہائیوں سے نظر انداز کیا گیا ہے۔
- تقسیم کا مسئلہ: ٹیل اینڈ کے کسانوں تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں انتظامی ناکامی۔
- لاگت کا بوجھ: مہنگی ٹیکنالوجی کے لیے بجلی اور دیکھ بھال کا مستقل خرچ عام کسان کی پہنچ سے باہر ہے۔
پالیسی کا رخ غلط کیوں ہے؟
حکومتی حلقے اکثر عالمی کامیابیوں کی مثالیں دیتے ہیں، لیکن وہ پاکستان کے مخصوص آبی گورننس کے بحران کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں اصل لڑائی صرف یہ نہیں کہ 'فصل کو پانی کیسے دیا جائے'، بلکہ یہ ہے کہ 'پانی پر پہلا حق کس کا ہے'۔ مہنگی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کر کے حکومت دراصل پانی کے بحران کی ذمہ داری کسانوں پر ڈال رہی ہے، بجائے اس کے کہ وہ دریائے سندھ کے نظام کی بدانتظامی کو درست کرے۔
آگے کیا دیکھنا چاہیے؟
اگر آپ زراعت سے وابستہ ہیں، تو آئندہ بجٹ میں آبی ڈھانچے کے لیے مختص فنڈز پر گہری نظر رکھیں۔ جدید آلات پر سبسڈی کے بجائے یہ دیکھیں کہ کیا حکومت موجودہ نہری نظام کی مرمت اور پانی کی چوری روکنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اگلے چند مہینوں میں کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ کتنی جدید مشینیں خریدی گئیں، بلکہ یہ ہوگا کہ کیا ٹیل اینڈ تک پانی پہنچا یا نہیں۔
کسانوں کے لیے عملی اقدامات
اگر آپ کی فصلیں پانی کی قلت سے متاثر ہو رہی ہیں، تو صرف جدید ٹیکنالوجی کے وعدوں پر انحصار نہ کریں۔ پانی کی قلت کی تاریخوں اور حجم کا ریکارڈ رکھیں اور متعلقہ آبپاشی کے محکمے کو باقاعدہ شکایت درج کرائیں۔ مقامی سطح پر 'واٹر یوزر ایسوسی ایشنز' بنانا یا ان میں شامل ہونا ہی واحد طریقہ ہے جس سے آپ حکام پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، ٹیکنالوجی ثانوی چیز ہے، پانی کا اپنا حق حاصل کرنا اولین ضرورت ہے۔
