یہ سوال کہ کیا امریکہ کے پاس میزائل ختم ہو رہے ہیں، عالمی سیکیورٹی ماہرین کے لیے ایک بڑی تشویش بن چکا ہے۔ پینٹاگون کو اپنے اتحادیوں کو ہتھیاروں کی بھاری ترسیل اور اپنے اسٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حالیہ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی دفاعی صنعتی بنیاد کو سپلائی چین کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ اگرچہ امریکہ کے پاس دنیا کا جدید ترین اسلحہ موجود ہے، لیکن مشرق وسطیٰ سمیت مختلف محاذوں پر جدید میزائلوں کی کھپت نے مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو حد تک پہنچا دیا ہے۔

کیا امریکہ کے پاس میزائل ختم ہو رہے ہیں؟ حقائق

یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ امریکہ کے پاس میزائل لفظی طور پر 'ختم' نہیں ہوئے۔ تاہم، پینٹاگون کو 'گہرائی' (depth) کے مسائل کا سامنا ہے۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے پاس فوری اور مختصر مدت کی لڑائیوں کے لیے کافی گولہ بارود موجود ہے، لیکن اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو ذخائر فیکٹریوں کی پیداواری صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔ مائیکرو چپس اور سولڈ راکٹ موٹرز جیسے اہم پرزوں کی سپلائی چین پیداوار بڑھانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

  • کچھ جدید میزائل سسٹمز کی تیاری کا وقت اب 24 ماہ سے تجاوز کر چکا ہے۔
  • دفاعی ٹھیکیداروں کو لیبر کی کمی اور خام مال کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے۔
  • محکمہ دفاع نے اپنی صنعتی بنیاد کو مستحکم کرنے کے لیے بجٹ میں بڑے اضافے کی درخواست کی ہے۔

عالمی استحکام پر اثرات

پاکستان اور دیگر ممالک کے لیے جو عالمی سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، یہ صورتحال انتہائی اہم ہے۔ جب امریکہ کو میزائلوں کی کمی محسوس ہوتی ہے، تو اس کا اثر اس کی سفارتی اور فوجی حکمت عملی پر پڑتا ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹ کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اپنے فوجی وعدوں میں زیادہ محتاط ہو سکتا ہے، جس کے اثرات جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔

مزید برآں، اپنے ذخائر کو دوبارہ بھرنے پر توجہ دینے سے عالمی سطح پر دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ممالک امریکی سپلائی چین پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنی مقامی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

اگر آپ اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو امریکی دفاعی بلوں پر توجہ دیں۔ ان دستاویزات سے پتہ چلے گا کہ کتنا فنڈز 'ذخائر کو دوبارہ بھرنے' کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن اور ریتھیون جیسے بڑے دفاعی ٹھیکیداروں کی رپورٹس پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ ان کے مالیاتی اعلانات سے ہی یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کیا امریکہ کے پاس میزائل ختم ہو رہے ہیں یا وہ پیداواری مسائل پر قابو پا رہے ہیں۔

فی الحال، یہ ایک لاجسٹک دوڑ ہے۔ امریکی فوج پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن طلب اور رسد کے درمیان یہ خلیج کم از کم اگلے 18 سے 24 ماہ تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔