نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلم ممالک کو اب متحد ہو کر عملی اور مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف بیانات سے آگے بڑھ کر اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا ایک مؤثر لائحہ عمل تیار کرے۔

فلسطین کی آزادی کے لیے مسلم ممالک کا اتحاد

اسحاق ڈار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلم ممالک کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ غزہ کے عوام کو خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

وزیر خارجہ کی تقریر کے اہم نکات یہ ہیں:
- مسلم ممالک کو انفرادی کے بجائے مشترکہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
- غزہ میں خوراک اور پانی کی کمی کے باعث انسانی بحران سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔
- فلسطین کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے۔

غزہ میں بڑھتا ہوا انسانی بحران

اسحاق ڈار نے نشاندہی کی کہ غزہ میں انسانی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے اور وہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ پاکستان کا موقف مسلسل یہ رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن تب تک ممکن نہیں جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق خود ارادیت نہ ملے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

اس اجلاس کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ مسلم ممالک کس حد تک عملی اقدامات پر متفق ہوتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے او آئی سی کے پلیٹ فارم پر امدادی کارروائیوں اور مستقل جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ آپ کو دفتر خارجہ کے تازہ ترین بیانات اور امدادی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ صورتحال کی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ رہ سکیں۔

حکومت پاکستان نے اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گی اور بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھاتی رہے گی۔