نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں مکہ دفاعی معاہدے کے اہم پہلوؤں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مکہ دفاعی معاہدے پر بات چیت کا تسلسل
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اس اہم ٹیلیفونک رابطے کا مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر قریبی رابطہ برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔
پاکستان اور کویت کے درمیان یہ سفارتی رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں دفاعی اتحادوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اسحاق ڈار نے کویتی ہم منصب کے ساتھ بات چیت میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
سفارتی رابطے کی اہمیت
یہ رابطہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس رخ کو بھی ظاہر کرتا ہے جس میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو مرکزیت حاصل ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں ہونے والی یہ گفتگو آنے والے وقت میں مزید ٹھوس اقدامات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
مستقبل میں کیا متوقع ہے؟
آئندہ دنوں میں دفتر خارجہ کی جانب سے اس رابطے کے مزید مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اعلیٰ سطحی رابطے پاکستان کی علاقائی سیکیورٹی پالیسی کو مزید تقویت دیں گے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ خارجہ امور سے متعلق تازہ ترین پیشرفت کے لیے دفتر خارجہ کے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔
