نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہاشمی مملکت اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم بن الحسین سے عمان میں ملاقات کی ہے، جس میں فلسطین کے بحران اور مشرق وسطی کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یہ ملاقات القدس سے متعلق خصوصی وزارتی اجلاس کے موقع پر ہوئی جس میں خطے کے کئی دیگر وزرائے خارجہ اور اعلیٰ شخصیات نے بھی شرکت کی۔
ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا اور انسانی امداد کی فراہمی اور فوری جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو مربوط بنانے پر زور دیا۔ فریقین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ مسلم امہ کو مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی روکنے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے مشترکہ سفارتی لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔
عمان میں اعلیٰ سطحی سفارتی اجلاس
اردن کے دارالحکومت میں منعقدہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد فلسطینی عوام کو درپیش انسانی مشکلات اور القدس کی صورتحال پر لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ اسحاق ڈار نے دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اس خصوصی فورم میں شرکت کی، جہاں علاقائی امن کے قیام اور غزہ میں امدادی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔
اجلاس کے دوران درج ذیل اہم سفارتی نکات پر غور کیا گیا:
- غزہ میں ہنگامی طبی امداد اور خوراک کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا۔
- دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل کے عالمی مؤقف کو تقویت دینا۔
- او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مشترکہ سفارتی اقدامات کو تیز کرنا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں اہمیت
اسلام آباد کے لیے مشرق وسطیٰ کے امور میں فعال سفارتی کردار ادا کرنا روایتی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ اگرچہ ملک اس وقت اندرونی معاشی چیلنجز سے نبردآزما ہے، تاہم وزارتِ خارجہ مسلم دنیا کے اہم ممالک بالخصوص اردن کے ساتھ رابطےگہرے رکھنے کو ترجیح دیتی ہے تاکہ علاقائی امن کے حوالے سے مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
آنے والے دنوں میں او آئی سی اور دیگر علاقائی پلیٹ فارمز پر ہونے والے ممکنہ فیصلوں پر نظر رکھی جائے گی۔ تجزیہ کار یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا یہ سفارتی مشاورت عملی امدادی اقدامات اور بین الاقوامی فورمز پر ٹھوس قراردادوں کی شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں۔
