وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی مسلم برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بیت المقدس کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ سفارتی محاذ پر بات کرتے ہوئے، اسحاق ڈار نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بیت المقدس کے مقدس مقامات کی حفاظت کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقدس مقامات کا تقدس پامال نہ ہو۔ وفاقی حکومت نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے غیر متزلزل مؤقف کو بارہا دہرایا ہے اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) جیسے کثیر الجہتی پلیٹ فارمز کے ذریعے مشترکہ کوششوں کا مطالبہ کیا ہے۔
مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ کی حیثیت
وزیر خارجہ نے واضح طور پر بیان کیا کہ مسجد اقصیٰ کا احاطہ خصوصی طور پر مسلمانوں کی عبادت کے لیے وقف ہے۔ یہ اعادہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کے اس حساس احاطے کے ارد گرد کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ اس مقدس مقام کی تاریخی حیثیت میں کسی بھی قسم کی مداخلت دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتی ہے۔
پاکستان کا سفارتی مؤقف
پاکستان نے ہمیشہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر فلسطینیوں کے حقوق کا معاملہ باقاعدگی سے اٹھاتے ہیں۔ آج کا یہ بیان ملک کی تاریخی خارجہ پالیسی کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
آگے کیا توقع ہے
اسلام آباد کے سفارتی مبصرین کو توقع ہے کہ اس اپیل کے بعد او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان مزید مشترکہ قراردادوں پر بات چیت شروع ہوگی۔ آپ وزارت خارجہ کی جانب سے آئندہ جاری ہونے والے بیانات پر نظر رکھیں جو ممکنہ ہنگامی وزراء کے اجلاسوں یا مشرق وسطیٰ کے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی پیکیجز سے متعلق ہو سکتے ہیں۔
