اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے پی ٹی آئی رہنما ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قید میں صحت بگڑنے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے فوری طبی امداد کی درخواست کی ہے۔
6 اگست 2026 کو ارسال کیے گئے ایک رسمی خط میں، بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس اطہر مناللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دونوں قیدیوں کو مناسب طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے مداخلت کریں۔ اس خط کی ایک کاپی نیا پاکستان کو بھی فراہم کی گئی ہے، جس میں ان کے قید میں صحت بگڑنے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی حالت کے بارے میں شفافیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
- کس کا معاملہ ہے: ایمان مزاری (پی ٹی آئی رہنما، سابق انسانی حقوق وزیر شیریں مزاری کی بیٹی) اور ہادی علی چٹھہ (پی ٹی آئی کارکن)۔
- کہاں: دونوں کو ادiala جیل، راولپنڈی میں رکھا گیا ہے۔
- کب: بار ایسوسی ایشن کا خط 6 اگست 2026 کو ارسال کیا گیا تھا؛ اب تک حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔
- کیا اہم ہے: مزاری کو پہلے سے گردے، تھائرائڈ اور بلڈ پریشر کی شکایات رہی ہیں، جبکہ چٹھہ کے خاندان نے ان کی قید کی حالت پر پہلے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی کیا مانگ ہے؟
بار ایسوسی ایشن کے خط میں چیف جسٹس مناللہ سے درج ذیل مطالبات کیے گئے ہیں:
- دونوں قیدیوں کا فوری طبی معائنہ ایک حکومتی منظور شدہ ڈاکٹر سے کروایا جائے۔
- ان کی صحت کی حالت کے بارے میں ایک شفاف رپورٹ ان کے خاندانوں اور قانونی نمائندوں کے ساتھ شیئر کی جائے۔
- یہ یقینی بنایا جائے کہ ان کے ساتھ کسی جبری کارروائی کا سلوک نہ کیا جائے۔
خط میں اقوام متحدہ کے قیدیوں کے سلوک کے معیارات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جو قیدیوں کو مناسب طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
خاندانوں اور کارکنوں کی آوازیں
مزاری کے خاندان نے مسلسل ان کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کی والدہ شیریں مزاری نے 5 اگست 2026 کو سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایمان کی صحت "معمولی حد تک بگڑی ہے" اور جیل انتظامیہ انہیں ضروری دوا تک نہیں دے رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
ہادی علی چٹھہ کے بھائی عثمان چٹھہ نے نیا پاکستان کو بتایا کہ خاندان کو ان سے مکمل ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جب سے وہ آخری جولائی 2026 میں قید میں لائے گئے تھے۔ عثمان نے کہا، "ہم انتہائی پریشان ہیں۔ جیل انتظامیہ کہتی ہے کہ وہ ٹھیک ہیں، لیکن ہمارے پاس کوئی آزادانہ تصدیق نہیں۔"
حکومت اور جیل انتظامیہ خاموش
7 اگست 2026 تک، نہ تو اسلام آباد پولیس، پنجاب جیل ڈیپارٹمنٹ اور نہ ہی وفاقی حکومت نے بار ایسوسی ایشن کے خدشات یا قیدیوں کی صحت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔
- ادiala جیل کے اہلکاروں نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کیا ہے۔
- inside منسٹری نے بھی متعدد میڈیا اداروں کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
یہ خاموشی حقوقی گروپوں میں تشویش کا باعث بنی ہے، جو کہتے ہیں کہ قید میں شفافیت کی کمی پاکستان میں ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، خاص طور پر سیاسی قیدیوں کے حوالے سے۔
اگلے اقدامات کیا ہیں؟
اسلام آباد ہائی کورٹ 12 اگست 2026 کو اپنی اگلی سماعت میں اس معاملے پر غور کر سکتی ہے، جہاں بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر بحث ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت درج ذیل اقدامات کر سکتی ہے:
- ایک طبی بورڈ کو حکم دے کر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا معائنہ کروایا جائے۔
- جیل انتظامیہ کو ہدایت دی جائے کہ وہ خاندانوں کے ساتھ طبی رپورٹس شیئر کریں۔
- اگر انتظامیہ طبی سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہی تو عدالت عدالتی عدم تعمیل کے نوٹس جاری کر سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان نے بھی دونوں قیدیوں تک آزادانہ طبی رسائی کی مانگ کی ہے، جو پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ ایمان مزاری یا ہادی علی چٹھہ کی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں:
- اسلام آباد ہائی کورٹ اور پی ٹی آئی کے سرکاری ذرائع ابلاغ سے اپ ڈیٹس حاصل کریں، خاص طور پر 12 اگست 2026 کی عدالتی سماعت کے حوالے سے۔
- انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے HRCP یا ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان سے رابطہ کریں اور ان سے کارروائی کا مطالبہ کریں۔
- تصدیق شدہ معلومات کو سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ حکام پر دباؤ بڑھایا جا سکے—لیکن غیر تصدیق شدہ دعووں کو پھیلانے سے گریز کریں۔
کیا دیکھنا ہے
- 12 اگست 2026: اسلام آباد ہائی کورٹ کی سماعت۔
- طبی رپورٹس: جیل انتظامیہ یا عدالت کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ۔
- خاندانوں کی ملاقات: کیا مزاری اور چٹھہ کے خاندانوں کو آزادانہ طور پر ڈاکٹروں سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی؟
یہ معاملہ پاکستان میں قید کی حالتوں کے broader خدشات کو بھی اجاگر کرتا ہے، جہاں سیاسی کارکن اور حزب اختلاف کے رہنما قید میں ناکافی طبی سہولت کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
یہ کہانی مزید معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ ہوتی رہے گی۔
