اسلام آباد میں نئے کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کے حوالے سے بڑھتی ہوئی پراسراریت نے دارالحکومت کے کھیلوں کے شائقین کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے ہم مسلسل یہ سن رہے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت میں ایک عالمی معیار کا کرکٹ گراؤنڈ بنایا جائے گا۔ تاہم، اتنے طویل عرصے کے باوجود شہر کے انتظامی ادارے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے اس منصوبے پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے اور کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
سی ڈی اے وقتاً فوقتاً اس سٹیڈیم کے قیام کے حوالے سے مبہم اشارے ضرور دیتا ہے، مگر کسی بھی باضابطہ منصوبے، نقشے یا فیزبیلٹی رپورٹ کا ت تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ جب اربوں روپے کے عوامی منصوبے پر اس طرح کی پراسراریت برتی جائے تو شہریوں کے دلوں میں سوالات اٹھنا بالکل فطری امر ہے۔
باضابطہ خاکہ اور جگہ کا تعین کہاں ہے؟
اسلام آباد میں کرکٹ سٹیڈیم کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ راولپنڈی کے برعکس دارالحکومت میں کوئی ایسا بڑا سٹیڈیم موجود نہیں جہاں بین الاقوامی میچز کا انعقاد کیا جا سکے۔ شائقین کرکٹ کو ہمیشہ میچ دیکھنے کے لیے جڑواں شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں شہر کے مختلف سیکٹرز میں اس سٹیڈیم کی تعمیر کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں، مگر میونسپل حکام نے آج تک کسی مخصوص مقام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ اس نوعیت کی انتظامی خاموشی سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھارے گا بھی یا نہیں
مالیاتی شفافیت اور سی ڈی اے کی ذمہ داری
اتنے بڑے پیمانے کے تعمیراتی منصوبوں کے لیے کروڑوں روپے کے بجٹ اور مالیاتی شفافیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سی ڈی اے نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ اس سٹیڈیم پر کل کتنی لاگت آئے گی اور اس کے اخراجات کیسے پورے کیے جائیں گے۔ مہنگائی کے اس دور میں عام پاکستانی یہ جاننے کا حق رکھتا ہے کہ کیا قومی وسائل کو واقعی کھیلوں کی ترقی پر خرچ کیا جا رہا ہے یا یہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہے۔
شائقین کرکٹ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ سٹیڈیم صرف اعلانات تک محدود نہ رہے تو سی ڈی اے کے شہریوں کے پورٹل اور شکایات سیل سے رجوع کریں۔ مقامی کرکٹ کلبز اور شائقین کو چاہیے کہ وہ میونسپل دفاتر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو خطوط لکھیں تاکہ اس منصوبے کی پیش رفت کے بارے میں حقائق معلوم کیے جا سکیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
سی ڈی اے کے آئندہ بورڈ اجلاسوں اور مالیاتی سال کے بجٹ کی دستاویزات پر گہری نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس سٹیڈیم کے لیے کوئی فنڈ مختص کیا گیا ہے یا نہیں۔ جب تک انتظامیہ خود آگے بڑھ کر ٹھوس حقائق اور تکمیل کی حتمی تاریخ پیش نہیں کرتی، اس قسم کی خبروں کو احتیاط کے ساتھ ہی دیکھا جانا چاہیے۔
