اسلام آباد میں ڈینگی کی صورتحال فی الحال مستحکم اور مکمل طور پر کنٹرول میں ہے، جس کی تصدیق ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز نے کی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں اب تک ڈینگی کے صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کی جانب سے بروقت احتیاطی تدابیر اور نگرانی کا عمل موثر ثابت ہو رہا ہے۔
اسلام آباد میں ڈینگی کی صورتحال کی نگرانی
شہر کے مختلف سیکٹرز اور دیہی علاقوں میں ہیلتھ ٹیمیں مسلسل متحرک ہیں۔ ان ٹیموں کی بنیادی ذمہ داری مچھروں کی افزائش کے مقامات جیسے کہ تعمیراتی مقامات پر کھڑا پانی، کھلے برتن اور غیر آباد باغات کی نشاندہی کرنا ہے۔ لاروا کو ابتدائی مرحلے میں ہی ختم کرنے پر توجہ دے کر حکام اس کوشش میں ہیں کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
- موجودہ تصدیق شدہ کیسز: 2
- حکمت عملی: لاروا کا خاتمہ اور عوامی آگاہی
- نگرانی کی حیثیت: تمام زونز میں مسلسل جاری
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
اگرچہ کیسز کی تعداد کم ہے، لیکن محکمہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون اور اس کے بعد کے موسم میں ڈینگی کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔ آپ کو اپنے گھر کے ارد گرد پانی کھڑا نہیں ہونے دینا چاہیے۔ گملوں، پرانے ٹائروں اور واٹر کولر میں پانی جمع نہ ہونے دیں، کیونکہ یہ ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے بہترین جگہیں ہیں۔
اگر آپ کو تیز بخار، شدید سر درد یا جوڑوں میں درد کی شکایت ہو تو فوری طور پر قریبی سرکاری ہسپتال یا بنیادی مرکزِ صحت (BHU) سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص ہی اس بیماری سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
آنے والے ہفتوں میں محکمہ صحت اسلام آباد میں ڈینگی کی صورتحال پر ہفتہ وار اپ ڈیٹس جاری کرتا رہے گا۔ حکام میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) کے ساتھ مل کر ان علاقوں میں فیومیگیشن مہم تیز کر رہے ہیں جہاں مچھروں کے پنپنے کا خطرہ زیادہ ہے۔ کسی بھی نئی ایڈوائزری یا الرٹ کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کے آفیشل پورٹل کو چیک کرتے رہیں۔ آنے والے مہینوں میں احتیاط برت کر ہی ہم ان کیسز کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔
