دارالحکومت میں ڈیجیٹل سیفٹی کے حوالے سے ایک اہم قانونی قدم اٹھایا گیا ہے، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) میں دائر کی گئی ایک درخواست میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا ریگولیشن کا سختی سے نفاذ یقینی بنائے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی حکومت بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرے تاکہ کم عمر و بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے منفی اثرات سے بچایا جا سکے۔ ملک بھر کے شہری اور دیہی علاقوں میں اسمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد والدین اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

بچوں کی آن لائن حفاظت کیوں ضروری ہے؟

بچوں کے لیے سوشل میڈیا ریگولیشن کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرینِ نفسیات اور والدین کی جانب سے بارہا یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ بغیر کسی ضابطے کے چلنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کم عمر ذہنوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز بچوں کا گھنٹوں وقت ضائع کرتے ہیں جس سے ان کی تعلیم، نیند اور ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اگر عدالت اس معاملے پر کوئی واضح حکم جاری کرتی ہے تو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے عمر کی تصدیق اور استعمال کے ضوابط بنانا لازمی ہو جائے گا۔

عدالت سے کیا مطالبات کیے گئے ہیں؟

اگرچہ درخواست کی تمام تفصیلات تاحال عدلیہ کے ریکارڈ کا حصہ بن رہی ہیں، تاہم قانونی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اس میں درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہوگا:
- پاکستان میں کام کرنے والے تمام بڑے ٹیک پلیٹ فارمز پر عمر کی لازمی حد کا نفاذ۔
- ایپ یا نیٹ ورک کی سطح پر اسکرین ٹائم کی پابندی اور پیرنٹل کنٹرول کے فیچرز۔
- وفاقی اداروں کی جانب سے اسکرین ایڈکشن کے خلاف عوامی آگاہی مہمات۔
- کم عمر بچوں کو نشانہ بنانے والا مواد ہٹانے میں ناکامی پر ٹیک کمپنیوں کا احتساب۔

والدین کے لیے عملی تجاویز

جب تک عدالت اور حکومت اس پالیسی پر کوئی حتمی فیصلہ صادر کرتی ہے، آپ بطورِ والد یا والدہ اپنے گھر میں خود حفاظتی اقدام اٹھا سکتے ہیں۔ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز میں موجود بلٹ ان اسکرین ٹائم کی حدود متعین کریں، اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان سے ڈیجیٹل عادات پر کھل کر بات کریں۔ بچوں کو اس بات کا یقین دلائیں کہ آن لائن ہراسانی یا کسی بھی پریشان کن مواد کی صورت میں وہ بلا جھجھک آپ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

عدالت میں آئندہ کیا ہوگا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی آئندہ سماعتوں پر نظر رکھیں جہاں وفاقی حکومت اور پی ٹی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ جیسے جیسے عدالت اس درخواست پر فریقین کے جواب طلب کرے گی، یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان آسٹریلیا جیسے بین الاقوامی ماڈلز کی طرز پر کوئی قدم اٹھاتا ہے یا اپنا کوئی الگ ضابطہ کار بناتا ہے۔