اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد جوڈیشل سروس کے ضلعی ججز اور گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کیلئے ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن الائونس میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ یار محمد ولانہ کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں تعینات عدلیہ کے افسران کو سفری اخراجات کی مد میں بہتر مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ نئی ہدایات کے تحت ان تمام افسران کے ماہانہ تنخواہ پیکج میں اس ترمیم کو شامل کر لیا گیا ہے تاکہ وہ دفتری امور اور عدلیاتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ٹرانسپورٹ کے اخراجات بہتر انداز میں سنبھال سکیں۔

ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن الائونس کا دائرہ کار

یہ نوٹیفکیشن بنیادی طور پر گریڈ 17 سے لے کر گریڈ 22 تک کے افسران اور ضلعی ججز پر لاگو ہوتا ہے۔ رجسٹرار آفس اور سیشن کورٹس کے انتظامی عملے کو بھی اس پالیسی کے تحت فوائد ملیں گے۔ اس اقدام سے عدالتی افسران کو اپنی ذاتی سواری کے انتظامات کرنے میں آسانی ہوگی کیونکہ حکومتی سطح پر گاڑیوں کی فراہمی کے متبادل کے طور پر اب نقد الائونس کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔ متعلقہ اکائونٹس دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے مالی سال کے بجٹ کے مطابق ان ادائیگیوں کو فوری طور پر حتمی شکل دیں۔

پنجاب میں قانونی اور انتظامی اصلاحات کمیٹی کا قیام

دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں قانونی اور انتظامی اصلاحات لانے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی ریفارمز کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ اس حوالے سے بھی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفراللہ خان اس ریفارمز کمیٹی کی قیادت کریں گے۔ یہ کمیٹی صوبائی سطح پر قانون سازی کے عمل کو بہتر بنانے اور ضلعی انتظامیہ کے نظام کو زیادہ شفاف اور عوام دوست بنانے کیلئے اپنی تجاویز جلد حکومت کو پیش کرے گی۔

متاثرہ افسران کیلئے اگلا قدم

اگر آپ کا تعلق اسلام آباد جوڈیشل سروس یا متعلقہ گریڈز سے ہے تو آپ کو چاہیے کہ اپنے محکمے کے فنانس اور اکائونٹس سیکشن سے رابطہ کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پے رول ڈیٹا میں نوٹیفکیشن کے مطابق ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن الائونس کی درست کاتین اور اضافہ شامل ہو چکا ہے۔ کسی بھی قسم کی تکنیکی تاخیر سے بچنے کیلئے متعلقہ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (DDO) سے رجوع کرنا مفید رہے گا۔

آئندہ کا لائحہ عمل

آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا وفاقی اور صوبائی حکومتیں دیگر سول سرونٹس کیلئے بھی اسی نوعیت کے مالی پیکجز لاتی ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کے الاؤنسز میں ردوبدل کا یہ سلسلہ آنے والے بجٹ سیشن تک جاری رہے گا، جس پر سرکاری ملازمین کی نظریں مرکوز ہیں۔