ججز تعیناتی سمری پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا محفوظ فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدر مملکت کی جانب سے ججز کی تعیناتی کی سمری کی منظوری نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یہ آئینی درخواست ایڈووکیٹ لقمان ظفر کی طرف سے ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری کے توسط سے دائر کی گئی تھی، جس میں صدر دفتر کی جانب سے تقرریوں کی سمری کو روکنے کے قانونی جواز کو چیلنج کیا گیا ہے۔

عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے بھیجی گئی سمریوں پر تاخیر یا عدم منظوری سے اعلیٰ عدلیہ کا نظامِ کار متاثر ہوتا ہے۔ اس نوعیت کے تنازعات سے وفاقی دارالحکومت اور صوبائی عدالتوں کے درمیان انتظامی اور آئینی ہم آہنگی پر بھی اثر پڑتا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے ججز کا تنازع اور سنگین اثرات

صدر مملکت کی جانب سے سمری پر دستخط نہ ہونے کے باعث تنازع میں مزید شدت آ گئی ہے، جس کا سب سے براہ راست اثر پشاور ہائیکورٹ پر پڑا ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے 20 جولائی 2026 کو ہونے والے اپنے اہم اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے چار ججز کو مستقل کرنے کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔

تاہم صدر مملکت کی جانب سے تاحال سمری کی منظوری نہ ملنے اور دستخط نہ ہونے کی وجہ سے یہ چاروں ججز مزید عدلیہ کا کام جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ اس صورتحال نے قانونی حلقوں میں شدید تشویش دوچار کر دی ہے کیونکہ اس سے زیر التواء مقدمات کے فیصلوں میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔

مقدمے کے اہم نکات اور تفصیلات

  • درخواست گزار: ایڈووکیٹ لقمان ظفر (بذریعہ ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری)
  • عدالت: اسلام آباد ہائیکورٹ
  • مرکزی تنازع: صدر مملکت کی جانب سے ججز تقرر سمری پر دستخط نہ کرنے اور منظوری روکنے کے خلاف چیلنج
  • کلیدی تاریخ: جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 20 جولائی 2026 جس میں چار ججز کی مستقل منظوری دی گئی تھی
  • فوری نتیجہ: پشاور ہائیکورٹ کے چار ججز سمری پاس نہ ہونے کی وجہ سے عدالتی فرائض سے فی الحال سبکدوش ہو چکے ہیں

آگے کیا ہوگا؟

مدافعتی اور آئینی ماہرین اب اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے منتظر ہیں جو کسی بھی وقت سنایا جا سکتا ہے۔ اگر عدالت اس معاملے میں کوئی سخت حکم جاری کرتی ہے تو اس سے مستقبل میں صدر اور جوڈیشل کمیشن کے تعلقات اور سمریوں کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ آپ عدالت کی کاز لسٹ اور مصدقہ خبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ سے جڑے رہیں۔