حکومت کو ملک میں حقیقی معاشی بہتری لانے کے لیے روایتی اور ناکام طریقوں کے بجائے دیگر کامیاب دنیا کے عملی اور آزمودہ معاشی ماڈلز کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ دارالحکومت کے پالیسی سازوں نے کئی دہائیوں سے مختصر مدت کے استحکام کے پیکجوں پر انحصار کیا ہے، لیکن ڈھانچہ جاتی خامیاں ہر مالی سال اربوں روپے نگل رہی ہیں۔ اگر وفاقی حکومت ملک کو مالیاتی بحران سے نکالنے میں سنجیدہ ہے، تو اسے دیکھنا ہوگا کہ جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر خطوں نے اپنے ٹیکس نظام اور برآمدات کو کیسے بہتر بنایا۔

بین الاقوامی معاشی کامیابیوں سے سبق

عالمی مارکیٹوں سے ملنے والا بنیادی سبق پالیسیوں میں تسلسل اور زمینی حقائق سے ہم آہنگی ہے۔ جب ویتنام یا بنگلہ دیش نے اپنے تجارتی ڈھانچے کو بہتر بنایا، تو انہوں نے برآمدی مینوفیکچرنگ پر توجہ دی اور سرمایہ کاروں کو طویل مدت کے لیے سہولتیں فراہم کریں۔ اس کے برعکس، پاکستانی صنعتوں کو یوٹیلیٹی بلوں میں اتار چڑھاؤ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے اچانک ٹیکس ترامیم کا سامنا رہتا ہے۔ جب تک قواعد و ضوابط تین ماہ بعد بدلتے رہیں گے، کوئی بھی سرمایہ کار یہاں طویل مدتی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔

اہم شعبے جہاں اسلام آباد کو بین الاقوامی معیار اپنانے کی ضرورت ہے:
- روایتی ٹیکسٹائل سے ہٹ کر ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈڈ انجینئرنگ کی طرف برآمدات کا تنوع
- سرکاری اداروں کی مسلسل مالی امداد کے بجائے ان کی مکمل تنظیم نو
- دستاویزی معیشت کو فروغ دینا تاکہ ٹیکس نیٹ میں وسعت آئے
- فیصل آباد، کراچی اور لاہور کے صنعتی زونز کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی

آپ کے گھریلو بجٹ پر اس کا اثر

راولپنڈی یا پشاور کے کسی عام شہری کے لیے معاشی بہتری کی مبہم بحث کا تعلق براہ راست روزمرہ کے اخراجات سے ہے۔ جب پالیسیاں غیر ملکی سرمایہ کاری کھینچنے میں ناکام رہتی ہیں، تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو شرح سود اونچی رکھنا پڑتی ہے۔ مہنگی شرح سود کا مطلب ہے مہقے آٹو لون، ہوم لون اور تنخواہ دار طبقے کے لیے مشکلات جو پہلے ہی بجلی اور پیٹرول کی بلند قیمتوں سے پریشان ہیں۔ جب تک اصلاحات حکومتی قرضوں کی لاگت کو کم نہیں سکتیں، مہنگائی آپ کی قوت خرید کو متاثر کرتی رہے گی۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

میکرو اکنامک اشاریوں کے جادوئی طور پر بہتر ہونے کا انتظار مت کریں۔ کرنسی کی اتار چڑھاؤ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی بچتوں کو محفوظ اثاثوں میں رکھیں اور غیر ضروری قرضوں سے گریز کریں۔ اگر آپ کا کوئی چھوٹا کاروبار ہے، تو کیش فلو کو بہتر بنانے پر توجہ دیں اور کمرشل بینکوں سے مہنگے قرضے لینے سے بچیں۔ وزارت خزانہ کی تازہ ترین رپورٹس اور ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخوں پر نظر رکھیں تاکہ آپ وقت پر فیصلے کر سکیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور پارلیمنٹ میں پیش ہونے والے مالیاتی تجاویز پر نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز جیسے خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری پر عمل درآمد کرتی ہے یا نہیں۔ اصل معاشی بہتری کا امتحان اسلام آباد کے بیانات سے نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے مہنگائی میں کمی اور مستحکم یوٹیلیٹی بلوں سے ہوگا۔