اسلام آباد پولیس نے فوری اثرات کے ساتھ پی ایس پی گریڈ 18 کے افسر سلیمان ظفر کو ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا اضافی چارج سونپ دیا ہے، جس کے بعد وہ دارالحکومت کے محکمے میں بیک وقت چھ مختلف عہدوں کی ذمے داری نبھا رہے ہیں۔ متعلقہ محکمے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔
ایک ہی افسر کو اتنی زیادہ انتظامی اور تفتیشی ذمے داریاں سونپنے سے دارالحکومت کے پولیس ڈھانچے کی کارکردگی اور نگرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ شہری جب اپنے مقدمات، ایف آئی آر کے اندراج یا جاری تفتیش کے سلسلے میں پولیس دفاتر کا رخ کرتے ہیں تو اہم عہدیداروں کے پاس اکھٹی ذمے داریاں ہونے کی وجہ سے اکثر تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نوٹیفیکیشن اور موجودہ ذمے داریوں کی تفصیلات
تقرری کی تصدیق کرنے والا باضابطہ نوٹیفیکیشن اسلام آباد پولیس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیا گیا۔ سلیمان ظفر اپنے پچھلے تمام مناصب پر برقرار رہتے ہوئے اس نئی ذمے داری کو سنبھال رہے ہیں۔ پیشہ ورانہ پولیس فورسز میں بیک وقت چھ عہدے سنبھالنے کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں، بالخصوص جہاں جرائم کی تفتیش کے لیے چوبیس گھنٹے توجہ اور نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
دارالحکومت کے باسیوں کو اکثر سنگین جرائم، جائیداد کے تنازعات اور اسٹریٹ کرائم کی تفتیش میں سست روی کی شکایات رہتی ہیں۔ جب کوئی افسر ایک ساتھ کئی انتظامی اور آپریشنل نشستیں سنبھالے گا تو کارکردگی متاثر ہونا فطری بات ہے۔ قانونی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے پولیس کے معیار کار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
شہریوں کے لیے اس صورتحال کا مطلب
اگر اسلام آباد میں آپ کا کوئی مقدمہ زیر تفتیش ہے یا آپ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر سے اپنے کیس کے سلسلے میں رابطہ کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو دفتری تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ فائل پر کام کی رفتار جاننے کے لیے اعلیٰ افسر کی بجائے متعلقہ انکوائری افسر یا برانچ سے براہ راست رابطہ کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے ہفتوں میں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ اسلام آباد پولیس انتظامیہ اتنی زیادہ ذمے داریوں کو کس طرح سنبھالتی ہے۔ سول سوسائٹی اور مقامی بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے ایسے فیصلوں پر اکثر تنقید کی جاتی ہے، اور اگر کارکردگی میں کمی آئی تو اسانتظامی بندوبست میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔
