اسلام آباد پولیس کی اینٹی وہیکل لفٹنگ یونٹ (AVLU) نے گاڑیوں کی چوری کے خلاف جاری مہم میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 2026 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران 1.63 ارب روپے مالیت کی چوری شدہ گاڑیاں برآمد کر لی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں ملوث گروہوں کے خلاف یہ کارروائی ایک اہم پیش رفت ہے۔

1.63 ارب روپے مالیت کی چوری شدہ گاڑیاں اور آپریشن

یکم جنوری 2026 سے 31 اگست 2026 تک، AVLU نے اسلام آباد بھر میں منظم گروہوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا۔ اس مدت کے دوران پولیس نے 50 چوری شدہ گاڑیاں بازیاب کرائیں اور ان جرائم میں براہِ راست ملوث 38 ملزمان کو گرفتار کیا۔ یہ ملزمان نہ صرف گاڑیوں کی چوری میں ملوث تھے بلکہ انہیں دوسرے علاقوں میں فروخت کرنے یا پرزے الگ کرنے کے نیٹ ورک بھی چلا رہے تھے۔

یہ آپریشنز اسلام آباد میں اسٹریٹ کرائمز کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ پولیس جدید نگرانی، فیلڈ انٹیلی جنس اور ڈیٹا ٹریکنگ کا استعمال کر رہی ہے تاکہ ان گاڑیوں کا سراغ لگایا جا سکے جنہیں اکثر جعلی کاغذات کے ساتھ دوسرے صوبوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

اپنی گاڑی کو چوری سے کیسے محفوظ رکھیں؟

اسلام آباد اور گردونواح میں گاڑیوں کے مالکان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کی گاڑی چوری ہو جائے تو فوری طور پر قریبی تھانے میں رپورٹ درج کروائیں۔ AVLU کو اپنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، چیسس نمبر اور ٹریکر کی تفصیلات فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

  • فوری طور پر ایف آئی آر (FIR) درج کروائیں۔
  • ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے پورٹل پر اپنی گاڑی کی رجسٹریشن کو اپ ڈیٹ رکھیں۔
  • گاڑی میں جی پی ایس ٹریکر اور ریموٹ انجن کِل فیچر ضرور لگائیں۔
  • گاڑی کے اندر کبھی بھی اصل کاغذات نہ چھوڑیں۔

آپ پولیس کی تازہ ترین اپ ڈیٹس اور کرائم الرٹس کے لیے اسلام آباد پولیس کی آفیشل ویب سائٹ islamabadpolice.gov.pk ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

سال کے اختتام تک، AVLU کی جانب سے گرفتاریوں اور برآمدگیوں کے حتمی اعداد و شمار جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ حکام سیف سٹی کیمروں کے ذریعے چوری شدہ نمبر پلیٹس کو ٹریک کرنے کے نظام کو مزید بہتر بنا رہے ہیں، جس سے مستقبل میں برآمدگی کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ شہریوں کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے گاڑیوں کی سیکیورٹی سے متعلق نئے احکامات پر نظر رکھنی چاہیے۔