وفاقی حکومت نے islamabad safe city expansion منصوبے کو تیز کر دیا ہے، اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کی مکمل تکمیل کے لیے 30 ستمبر 2024 کی سخت ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ اس بڑے سیکیورٹی اپ گریڈ کا مقصد ہزاروں سرکاری اور نجی نگرانی کے کیمروں کو ایک مرکزی نیٹ ورک میں ضم کر کے وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے تمام خلاء کو ختم کرنا ہے۔

اسلام آباد میں ہاؤسنگ سوسائٹیز، کمرشل پلازوں اور تعلیمی اداروں کے لیے یہ توسیع صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک لازمی قانونی ضرورت بن چکی ہے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور اسلام آباد پولیس اب نجی اداروں کے لیے بیرونی سیکیورٹی فیڈز کو سیکٹر H-11 میں قائم سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ساتھ منسلک کرنا لازمی قرار دے رہی ہے۔

یہاں ایک جامع گائیڈ دی جا رہی ہے کہ کس کس کو اس قانون پر عمل کرنا ہوگا، اس کے لیے کیا تکنیکی خصوصیات درکار ہیں، اور آپ آخری تاریخ سے پہلے انٹیگریشن کا عمل کیسے مکمل کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد سیف سٹی توسیعی منصوبے کو سمجھیں

اس توسیعی منصوبے کا بنیادی مقصد ہائی ٹیک نگرانی کے دائرہ کار کو ان علاقوں تک پھیلانا ہے جو پہلے کور نہیں تھے، جن میں دیہی مضافات، تجارتی مراکز اور نجی ہاؤسنگ اسکیمیں شامل ہیں۔ سیف سٹی ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران وزیر داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات کے تحت، اسلام آباد پولیس تمام اہم داخلی اور خارجی راستوں، عوامی پارکوں اور تجارتی زونز کو فعال نگرانی میں لانے کی پابند ہے۔

نجی کیمروں کو مرکزی نیٹ ورک سے منسلک کر کے، پولیس حقیقی وقت میں جرائم پیشہ افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکے گی، ہنگامی حالات میں ردعمل کے وقت کو بہتر بنا سکے گی، اور شہر کے ای چالان ٹریفک سسٹم کو مزید مؤثر بنا سکے گی۔ شہریوں کے لیے اس کا مطلب ان کے محلوں کی نگرانی کرنے والے اسمارٹ کیمروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہے۔

کس کے لیے اپنے کیمرے لنک کرنا لازمی ہے؟

اگرچہ انفرادی گھر کے مالکان قانونی طور پر اپنے نجی انڈور کیمروں کو منسلک کرنے کے پابند نہیں ہیں، لیکن درج ذیل تجارتی اور رہائشی کیٹیگریز کے لیے یہ انٹیگریشن لازمی ہے:

  • رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز: اسلام آباد کی حدود میں واقع تمام نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے مرکزی داخلی و خارجی راستوں اور بیرونی حدود کے کیمروں کو منسلک کریں۔
  • کمرشل پلازے اور مالز: تجارتی مراکز، خاص طور پر مرکز کے علاقوں (جیسے F-6، F-7، G-9 اور I-8) کے پراپرٹی مینیجرز کو بیرونی کیمروں تک رسائی فراہم کرنی ہوگی۔
  • تعلیمی ادارے: اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو اپنی بیرونی حدود کو محفوظ بنانا ہوگا اور فیڈز کو مرکزی کنٹرول روم کے ساتھ شیئر کرنا ہوگا۔
  • بینک اور مالیاتی مراکز: ہائی سیکیورٹی زونز کو پولیس نیٹ ورک کے ساتھ براہ راست انٹیگریشن برقرار رکھنا ہوگی۔

مرحلہ وار گائیڈ: اپنے کیمروں کو سیف سٹی سے کیسے منسلک کریں؟

اپنے سیکیورٹی سسٹم کو مرکزی نیٹ ورک سے لنک کرنے کے لیے آپ کو اسلام آباد پولیس کے قائم کردہ آفیشل پروٹوکول پر عمل کرنا ہوگا:

  1. انفراسٹرکچر کا جائزہ لیں: اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے کیمرے عوامی مقامات جیسے کہ اہم سڑکوں، پارکنگ لاٹس یا داخلی راستوں کو کور کر رہے ہوں۔ پرائیویسی کے تحفظ کے لیے اندرونی کیمروں کو منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔
  2. تکنیکی مطابقت کی تصدیق کریں: آپ کا سی سی ٹی وی سسٹم معیاری نیٹ ورک پروٹوکولز کو سپورٹ کرتا ہو۔ پرانے اینالاگ سسٹمز آئی پی انکوڈرز کے بغیر کام نہیں کریں گے۔
  3. درخواست جمع کروائیں: سیکٹر H-11 اسلام آباد میں واقع سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے رابطہ کریں یا اسلام آباد پولیس کے آفیشل پورٹل islamabadpolice.gov.pk پر جائیں۔ آپ کو اپنی سوسائٹی یا کاروبار کے رجسٹریشن دستاویزات، لے آؤٹ پلان اور اپنے تکنیکی ایڈمنسٹریٹر کے رابطے کی تفصیلات جمع کرانی ہوں گی۔
  4. نیٹ ورک کنفیگریشن: سیف سٹی کی تکنیکی ٹیم آپ کو ایک محفوظ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) کنفیگریشن یا مخصوص آئی پی ایڈریس فراہم کرے گی۔ آپ کو اپنے نیٹ ورک ویڈیو ریکارڈر (NVR) کو اس محفوظ ٹنل کے ذریعے فیڈز بھیجنے کے لیے کنفیگر کرنا ہوگا۔
  5. سسٹم کی تصدیق: اسلام آباد پولیس کی ایک تکنیکی ٹیم فیڈ کی کوالٹی کا معائنہ کرے گی۔ منظوری کے بعد کنکشن کو لائیو کر دیا جائے گا۔

تکنیکی ضروریات اور اخراجات

اسلام آباد پولیس آپ کے سسٹم کو سیف سٹی نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے کوئی فیس وصول نہیں کرتی۔ تاہم، ہارڈویئر اپ گریڈ کے اخراجات پراپرٹی کے مالک یا ہاؤسنگ سوسائٹی کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔

انٹیگریشن کے اہل ہونے کے لیے آپ کے ہارڈویئر کو ان کم از کم تصریحات پر پورا اترنا چاہیے:
- کیمرے کی قسم: ONVIF مطابقت کے حامل آئی پی (IP) کیمرے۔
- ریزولیوشن: عام نگرانی کے لیے کم از کم 2 میگا پکسل (1080p)؛ اہم داخلی راستوں کے لیے آٹو نمبر پلیٹ ریکگنیشن (ANPR) کی صلاحیت کے ساتھ 4 میگا پکسل۔
- ویڈیو کمپریشن: بینڈوتھ کو بہتر بنانے کے لیے H.264 یا H.265 کمپریشن اسٹینڈرڈز۔
- انٹرنیٹ کنکشن: اسٹیٹک آئی پی ایڈریس کے ساتھ ایک مخصوص ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کنکشن (ترجیحی طور پر فائبر آپٹک) اور فی اسٹریم کم از کم 4 Mbps اپ لوڈ اسپیڈ۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

جیسے جیسے 30 ستمبر 2024 کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے، ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے کی جانب سے جانچ پڑتال سخت ہونے کی توقع ہے۔ وہ ہاؤسنگ سوسائٹیز جو اپنے سیکیورٹی سسٹمز کو ضم کرنے میں ناکام رہیں گی، انہیں این او سی (NOC) یا یوٹیلیٹی منظوریوں کے حصول میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید برآں، اسلام آباد پولیس اس توسیعی نیٹ ورک پر چہرے کی شناخت (Facial Recognition) اور خودکار مشتبہ سرگرمیوں کے الرٹس سمیت جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس فیچرز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جو پراپرٹی مالکان اب اپنے سسٹمز کو فعال طور پر اپ گریڈ کریں گے، وہ مستقبل میں ہنگامی تنصیبات اور ممکنہ جرمانے سے بچ سکیں گے۔