حکومت نے اسلام آباد سیف سٹی ایکسپینشن منصوبے کے لیے ٹائم لائن کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت وزیر داخلہ محسن نقوی نے تمام جاری کاموں کو 30 ستمبر تک مکمل کرنے کی سخت ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد سیف سٹی ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران، وزیر داخلہ نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ منصوبے کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس توسیع کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی روک تھام اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے جدید نگرانی کا نظام قائم کرنا ہے۔

اسلام آباد سیف سٹی ایکسپینشن کیا ہے؟

اس منصوبے کا بنیادی مقصد دارالحکومت کے مختلف علاقوں کو ایک مربوط اور جدید مانیٹرنگ گرڈ میں شامل کرنا ہے۔ اسلام آباد سیف سٹی ایکسپینشن کی 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن تک، حکام کا ارادہ ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں، تجارتی مراکز اور انتہائی حساس مقامات پر ہائی ڈیفینیشن کیمرے، فیشل ریکگنیشن سسٹم اور آٹومیٹڈ نمبر پلیٹ ریکگنیشن (ANPR) سینسرز نصب کر دیے جائیں۔

یہ اقدام وزارت داخلہ کی جانب سے پاکستان میں پولیسنگ کے نظام کو جدید بنانے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔ شہریوں کے لیے اس کا مطلب ایک ایسا سیکیورٹی نظام ہے جو جرائم پر حقیقی وقت میں نظر رکھ سکے گا۔

شہریوں کے لیے اس کے اثرات

اگر آپ اسلام آباد میں رہتے یا کام کرتے ہیں، تو آپ کو درج ذیل تبدیلیاں محسوس ہوں گی:

  • بہتر قانون نافذ کرنے والے ادارے: نگرانی کے نیٹ ورک میں اضافے سے گاڑیوں کی چوری یا سٹریٹ کرائم جیسے واقعات پر پولیس کے ردعمل کے وقت میں کمی متوقع ہے۔
  • ٹریفک مینجمنٹ: اسمارٹ ٹریفک مانیٹرنگ سسٹم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور رش کے اوقات میں ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔

اس منصوبے کے لیے شہریوں کو کسی قسم کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے؛ یہ نظام مکمل طور پر آئی سی ٹی پولیس اور وزارت داخلہ کے زیر انتظام ہے۔

منصوبے کے اگلے مراحل

دورے کے بعد وزیر داخلہ نے پروجیکٹ ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ آلات کی تنصیب کو تیز کرے اور 30 ستمبر سے پہلے تمام سافٹ ویئر سسٹمز کو مربوط کرے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ منصوبے میں مزید کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آئی سی ٹی پولیس کے سوشل میڈیا چینلز یا وزارت داخلہ کی ویب سائٹ کے ذریعے تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیں۔ ڈیڈ لائن قریب آنے پر آپ کو شہر بھر میں نگرانی کے آلات کی ٹیسٹنگ نظر آ سکتی ہے، جو کہ نظام کو فعال کرنے کے لیے معمول کی کارروائی کا حصہ ہے۔