وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دارالحکومت اسلام آباد میں چین کی طرز پر ایک جدید لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سنٹر قائم کرنے کے لیے پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں بننے والے اس نئے مرکز کا بنیادی مقصد مجرمانہ نظامِ انصاف کو بہتر بنانا اور معمولی نوعیت کے مقدمات کا فوری حل نکالنا ہے۔ اس مرکز کی خاص بات یہ ہوگی کہ حراست، تفتیش اور سمری ٹرائل کے تمام مراحل ایک ہی چھت تلے انجام دیے جائیں گے تاکہ روایتی عدلیہ اور تھانے کے چکروں سے شہریوں کو نجات مل سکے۔
اسلام آباد میں چین کی طرز کا جدید مرکز
وزارت داخلہ کے مطابق اس پائلٹ پراجیکٹ کے تحت چھوٹے اور معمولی جرائم میں ملوث افراد کے معاملات کو طویل عدلیہ کارروائی کے بغیر جلد نمٹایا جائے گا۔ روایتی نظام میں تفتیشی افسران، حوالات اور عدالتوں کے درمیان فائلیں گھومنے کی وجہ سے معمولی نوعیت کے مقدمات بھی سالوں التوا کا شکار رہتے ہیں۔
اس نئے ماڈل کے نفاذ سے پولیس کی تفتیشی صلاحیت میں بہتری آئے گی اور تفتیش سے لے کر فیصلے تک کا سفر کم سے کم وقت میں طے ہوگا۔ وزارت داخلہ نے متعلقہ حکام کو پراجیکٹ کے بنیادی ڈھانچے اور طریقہ کار کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔
نظامِ انصاف میں اصلاحات کی کوشش
پاکستان میں عام سائلین کو انصاف کے حصول میں درپیش تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس جامع مرکز کے قیام سے نہ صرف تفتیشی مرحلے میں شفافیت آئے گی بلکہ عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی کم ہوگا۔
- یک چھت تلے سہولیات: حراست، تفتیشی عمل اور سمری ٹرائل کے کمرے ایک ہی احاطے میں موجود ہوں گے۔
- خصوصی فوکس: یہ مرکز بنیادی طور پر معمولی نوعیت کے مقدمات اور چھوٹے جرائم کو جلدی حل کرنے کے لیے کام کرے گا۔
- شفافیت اور نگرانی: تفتیش کے عمل کو تیز کرنے کے لیے جدید مانیٹرنگ کا نظام بھی بنایا جائے گا۔
قانونی ماہرین اس پراجیکٹ کے نفاذ اور اس کے قانونی دائرہ کار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فوری انصاف کے چکر میں بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
قارئین کو آگے کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ اسلام آباد کے رہائشی ہیں یا ملکی قانونی نظام میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو وزارت داخلہ کی جانب سے اس پراجیکٹ کے باضابطہ آغاز اور اس کے مقام سے متعلق آنے والی مزید تفصیلات پر نظر رکھیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اس نئے طریقہ کار کے بارے میں قانونی ماہرین کی آراء کا بھی جائزہ لیں۔
مستقبل کی خبروں میں کیا دیکھیں؟
آئندہ دنوں میں اس بات پر نظر رکھیے کہ حکومت اس پائلٹ پراجیکٹ کے لیے کون سا علاقہ مختص کرتی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی یا قواعد و ضوابط کیا طے کیے جاتے ہیں۔ پراجیکٹ کی فنڈنگ اور تعمیراتی پیشرفت سے متعلق رپورٹس بھی آنے والے ہفتوں میں سامنے آئیں گی۔
