وفاقی دارالحکومت میں پولیس کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات 5 فروری 2026 کو اسلام آباد میں چین کی طرز پر قائم ہونے والے لاء انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر کا اعلان کیا۔ اس پائلٹ پروجیکٹ کا مقصد روایتی تفتیشی طریقوں کو ختم کر کے جدید تکنیکی بنیادوں پر جرائم کی تفتیش کو بہتر بنانا ہے۔
جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران محسن نقوی نے اس تجویز کردہ مرکز کے خصلت اور ڈیزائن کا جائزہ لیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد فرانزک شواہد اکھٹے کرنے، ڈیجیٹل سرویلنس اور تفتیشی عمل کو ایک چھت تلے جمع کرنا ہے۔ اگرچہ تاحال اس منصوبے کے بجٹ اور باضابطہ افتتاح کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹ فیز کا آغاز جلد اسلام آباد کے منتخب علاقوں میں کیا جائے گا۔
چینی ماڈل سے پولیسنگ میں تبدیلی
پاکستان میں چینی ماڈل کا یہ تفتیشی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ منظم جرائم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئی تبدیلی کی علامت ہے۔ ملک کے روایتی تھانے اکثر پرانے طریقہ کار، فرانزک رپورٹس میں تاخیر اور وسائل کی کمی کا شکار رہتے ہیں جس سے مجرموں کو سزائیں دلوانا مشکل ہو جاتا ہے۔ وزارت داخلہ کا ماننا ہے کہ چینی طرز کے نظام سے تفتیشی عمل میں خودکار ڈیٹا بیس اور تیز رفتار معلومات کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
دوسری جانب قانونی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس نظام کے نفاذ کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق اور پرائیویسی کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام کے ساتھ شفاف قانونی طریقہ کار کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
شہریوں کے لیے اس کے کیا اثرات ہیں؟
اسلام آباد کے عام شہریوں کے لیے اس پائلٹ پروجیکٹ کے اثرات ابتدائی طور پر انتظامی سطح پر ہی محسوس ہوں گے کیونکہ پولیس اہلکاروں کو نئی تکنیک کی تربیت دی جائے گی۔ آنے والے مہینوں میں بڑے مجرمانہ مقدمات درج کرنے اور تفتیش کرنے کے طریقوں میں بہتری متوقع ہے۔ اگر اسلام آباد میں یہ تجربہ کامیاب رہا تو وزارت داخلہ اسے صوبائی دارالحکومتوں تک پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
- پائلٹ پروجیکٹ کا اعلان وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات 5 فروری 2026 کو کیا۔
- توجہ جدید تفتیشی تکنیک اور فرانزک انٹیگریشن پر مرکوز ہے۔
- ابتدائی نفاذ صرف اسلام آباد تک محدود ہوگا۔
آئندہ کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں اس مرکز کے افتتاح کی حتمی تاریخ اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ضابطہ کار پر نظر رکھیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے چینی ماہرین کی مدد سے شروع ہونے والے تربیتی پروگراموں کی تفصیلات بھی جلد سامنے آئیں گی، جس سے یہ واضح ہوگا کہ یہ ماڈل پاکستانی ماحول میں کتنا کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
