پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے زیرِ اہتمام جاری تربیت کے سلسلے میں ایک اہم نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں نوجوانوں نے حصہ لیا۔ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام کے سلسلے میں منعقدہ اس خصوصی تقریب میں ملک بھر کے 21 اسٹیشنز سے تعلق رکھنے والے 6 ہزار 150 سے زائد طلبہ و طالبات شریک ہوئے۔ الغزالی یونیورسٹی کے چانسلر مفتی عبد الرحیم نے اس نشست سے خصوصی خطاب کیا اور نوجوانوں کو ملکی بقا اور ترقی میں ان کے کردار سے آگاہ کیا۔

تقریب کے اہم خدوخال اور طلبہ کی شرکت

ملک کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے یہ پروگرام سمر ویکیشنز کے دوران نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں اور قومی امور سے روشناس کرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس سیشن میں چاروں صوبوں اور وفاقی اکائیوں کے نمائندہ طلبہ نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

  • کل شرکاء: 6 ہزار 150 سے زائد طلبہ و طالبات
  • اسٹیشنز: ملک بھر کے 21 مختلف مقامات
  • مہمانِ مقرر: مفتی عبد الرحیم (چانسلر الغزالی یونیورسٹی)
  • بنیادی موضوع: حب الوطنی، ملکی دفاع اور دینی و قومی ذمہ داریاں

مفتی عبد الرحیم کا نوجوانوں کے نام پیغام

مفتی عبد الرحیم نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور ہمارے پاس ایک امانت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سرزمین سے محبت کرنا، اس کی حفاظت کرنا اور اسےترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہر شہری کی اولین دینی اور قومی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو انتشار پھیلانے والی قوتوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اپنی تمام تر توجہ حصولِ علم اور ملکی تعمیر پر مرکوز کرنی چاہیے۔

مفتی عبد الرحیم نے شرکاء کو تلقین کی کہ وہ وطنِ عزیز کی قدر کریں اور اپنے اندر اخلاقی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں پیدا کریں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ طلبہ نے اس فکری نشست کو انتہائی مفید قرار دیا اور ملکی سلامتی کے اداروں کے ساتھ اس قسم کے رابطوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز یونیورسٹی یا کالج کی سطح پر زیرِ تعلیم ہے، تو تعلیمی اداروں اور سرکاری پورٹلز پر نظر رکھیں تاکہ آئندہ آنے والے سیشنز میں رجسٹریشن کا موقع ہاتھ سے نہ جانے پائے۔ اس قسم کے تربیتی پروگرام عام طور پر موسمِ گرما اور سرما کی تعطیلات میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ اپنے تعلیمی ادارے کے اسٹوڈنٹس افیئرز ڈیپارٹمنٹ سے رابطے میں رہیں تاکہ بروقت درخواست جمع کرائی جا سکے۔

آئندہ کن باتوں کا خیال رکھیں؟

آنے والے مہینوں میں ملک بھر میں نوجوانوں کی فکری تربیت کے لیے ایسے مزید پروگرامز اور ورکشاپس کے انعقاد کی توقع ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں طلبہ کو ملک کے زمینی حقائق اور دفاعی امور سے قریب تر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے نوٹس بورڈز اور آفیشل ذرائع پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی نئی پالیسی یا رجسٹریشن کی آخری تاریخ سے بروقت باخبر رہیں۔