اسرائیل نے خاموشی کے ساتھ جدید آئی این ایس ڈریکون آبدوز حاصل کر لی ہے، جس سے اس کی سمندر میں جنگی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ اہم دفاعی دفاعی پلیٹ فارم جرمن کمپنی تھائیسنکرپ میرین سسٹمز (TKMS) نے تیار کیا ہے۔ اس ترسیل کو بغیر کسی بڑی عوامی تقریب کے انتہائی رازداری کے ساتھ انجام دیا گیا، جو کہ خطے میں موجودہ کشیدہ ماحول کے پیش نظر دفاعی خریداریوں کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔

تیاری اور جرمن کمپنی کا پس منظر

یہ جدید ترین بحری جہاز معروف جرمن ادارے تھائیسنکرپ میرین سسٹمز کے کارخانوں میں تیار کیا گیا ہے۔ یہ کمپنی جدید ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں بنانے میں عالمی شہرت رکھتی ہے اور اس کے اسرائیلی بحریہ کے ساتھ طویل عرصے سے دفاعی معاہدے چلے آ رہے ہیں۔ اس منصوبے پر یورپی شپ یارڈز میں کئی سالوں تک تکنیکی کام جاری رہا جس کے بعد اب اسے باضابطہ طور پر حوالے کر دیا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ آبدوزیں پرانے ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ دور تک مار کرنے اور جاسوسی کی جدید صلاحیتیں رکھتی ہیں۔

علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات

اس نئے بحری اضافے سے بحیرہ روم اور اس سے ملحقہ سمندری علاقوں میں دفاعی حرکیات بدلنے کا امکان ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید زیر آب فلیٹ دشمن کی نظروں سے بچ کر طویل عرصے تک سمندر میں رہنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیاں سفارتی تناؤ کے باوجود بھاری عسکری سازوسامان کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

دفاعی تجزیہ کار اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس آبدوز کے سمندری تجربات کتنی جلدی مکمل ہوتے ہیں اور اسے باقاعدہ طور پر کب تعینات کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کی طرف سے بحری دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے کیے جانے والے ردعمل پر بھی سب کی نظریں مرکوز ہیں۔