اسرائیلی حکام نے غزہ سے تعلق رکھنے والے 24 زیر حراست فلسطینی افراد کو رہا کر دیا ہے، جنہیں فوج نے جاری جنگ کے دوران مختلف کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا تھا۔ رہائی پانے والے ان افراد کو کرم ابو سالم (کریم شالوم) کراسنگ کے راستے واپس بھیجا گیا ہے جہاں سے انہیں متعلقہ اداروں کے حوالے کیا گیا۔
کرم ابو سالم کراسنگ پر رہائی کا عمل
ان غزہ کے قیدیوں کی رہائی کا یہ عمل اسرائیل، غزہ اور مصر کے سنگم پر واقع کرم ابو سالم بارڈر کراسنگ پر مکمل ہوا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں پہلے ہی یہ نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ جنگی کارروائیوں کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کو بغیر کسی باضابطہ مقدمے کے حراست میں لیا گیا تھا۔ رہائی پانے والے ان افراد کو طبی امداد اور دیگر قانونی کارروائی کے لیے مقامی اداروں کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔
- رہا کیے گئے افراد کی کل تعداد: 24 فلسطینی
- تعلق کا علاقہ: غزہ کی پٹی
- رہائی کا مقام: کرم ابو سالم (کریم شالوم) کراسنگ
- پس منظر: جنگی کارروائیوں کے دوران حراست میں لیے گئے
غزہ کے زیر حراست افراد کا پس منظر
تنازعے میں تیزی کے بعد سے اسرائیلی فوج نے زمینی کارروائیوں کے دوران غزہ کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں شہریوں اور افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں سے بیشتر افراد کو بغیر کسی باضابطہ الزام کے طویل عرصے تک حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان حراستی مراکز میں سہولیات کی کمی اور مبینہ بدسلوکی پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آپ کو بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا کرم ابو سالم کراسنگ کے راستے مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا کوئی اور سلسلہ بھی متوقع ہے۔ رہائی پانے والے افراد کی جسمانی اور ذہنی حالت کے حوالے سے طبی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے کیونکہ طویل حراست کے بعد ان افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔
