انسٹটিউট آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے انڈیا اسٹڈی سینٹر کی جانب سے اسلام آباد میں "5 اگست 2019: حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد" کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا تاکہ یوم استحصال منایا جا سکے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی اقدامات کی مذمت کی جا سکے۔ اس تقریب میں اساتذہ، سفارت کاروں اور دفاعی ماہرین نے شرکت کی اور بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے سات سال مکمل ہونے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
سیمینار کے اہم نکات
- عنوان: 5 اگست 2019: حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد
- منظم کردہ ادارہ: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کا انڈیا اسٹڈی سینٹر
- مقام: اسلام آباد
- مناسبت: 5 اگست کے اقدامات کے خلاف یوم استحصال کا دن
تقریب سے خطاب کرنے والے ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی حکام کی جانب سے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازشیں اور من مانے قوانین بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مقررین نے نشاندہی کی کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ خطے کی متنازع حیثیت کو ختم کرنے اور مقامی آبادی کو دبانے کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
یوم استحصال کی اہمیت
پاکستانی عوام اور پالیسی سازوں کے لیے یوم استحصال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مسئلہ کشمیر اب بھی خطے کا سب سے اہم تنازع ہے۔ سخت فوجی محاصرے کے باوجود کشمیری عوام کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ سیمینار میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت نہیں مل جاتا۔
آگے کیا توقع کی جائے
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات اور ملک بھر میں ہونے والی تقریبات پر نظر رکھیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی آنے والے مہینوں میں مقبوضہ علاقے کی صورتحال پر اپنی نئی رپورٹس جاری کر سکتی ہیں۔
