اتحاد تنظیمات مدارس (ITM) نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے کیے گئے وعدوں کے مطابق صوبے میں مدارس کی رجسٹریشن کے مسائل کو فوری طور پر حل کریں۔ صوبے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران مذہبی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مدارس کو درپیش انتظامی رکاوٹیں تعلیم کے عمل میں بڑی رکاوٹ ہیں اور انہیں قانونی دائرہ کار میں لانے کے لیے وعدہ شدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
مدارس کی رجسٹریشن اور حکومتی وعدے
اتحاد تنظیمات مدارس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے ماضی میں مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کا وعدہ کیا تھا، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ اس عمل کو شفاف اور سہل بنایا جائے تاکہ مدارس قانونی حیثیت حاصل کر سکیں اور طلباء کو قومی تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے حکومتی اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انتظامی تاخیر کی وجہ سے مدارس کی انتظامیہ اور مقامی حکومت کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ علماء کا موقف ہے کہ رجسٹریشن کا عمل نہ صرف مدارس کے لیے قانونی تحفظ کا باعث بنے گا بلکہ اس سے ریاست اور مذہبی تعلیمی اداروں کے درمیان اعتماد سازی میں بھی مدد ملے گی۔
دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی
رجسٹریشن کے علاوہ، پریس کانفرنس کا ایک اہم حصہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے متاثرہ علاقوں میں مساجد اور مدارس کی سیکیورٹی تھا۔ مذہبی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان حساس علاقوں میں موجود تعلیمی مراکز کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ وہاں کام کرنے والے علماء اور زیر تعلیم طلباء بلا خوف و خطر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
- حساس اضلاع میں مذہبی مقامات کے گرد سیکیورٹی گشت میں اضافہ۔
- مساجد کی کمیٹیوں اور مقامی انتظامیہ کے مابین سیکیورٹی رابطوں کا قیام۔
- علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں کی جان و مال کا تحفظ۔
صوبے میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ مطالبات انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ علماء کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے مناسب انتظامات کے بغیر تعلیمی اداروں میں خوف کی فضا قائم رہتی ہے جو کہ درس و تدریس کے عمل کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
مستقبل میں کیا متوقع ہے؟
اب تمام تر نظریں صوبائی حکومت کے ردعمل پر ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جلد اس معاملے پر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کریں گے تاکہ اتحاد تنظیمات مدارس کے وفد کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکیں۔ مدارس کی انتظامیہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی دستاویزات کو مکمل رکھیں، کیونکہ حکومتی مذاکرات کے بعد رجسٹریشن کا عمل تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
ہم اپنے قارئین کو اس معاملے پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ رکھیں گے۔ حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی نئی پالیسی یا رجسٹریشن کے طریقہ کار میں تبدیلی کا اعلان ہونے پر مدارس کے ذمہ داران کو فوری طور پر رابطہ کرنا چاہیے۔
