جیکب آباد اس سال کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے جہاں روزانہ 12 گھنٹے بجلی کی کٹوتی اور بار بار ٹرپنگ نے شہر کو ایک بھٹی میں بدل دیا ہے۔ بدھ کو تاجر برادری نے واپڈا کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دکانیں بند کر دیں۔ تاجر برادری کا الزام ہے کہ واپڈا انتہائی گرمی کے دوران بھی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

یہ کٹوتی شہر کے ہر گوشے کو متاثر کر رہی ہے۔ جیکب آباد سول ہسپتال میں گزشتہ 48 گھنٹوں میں ہیٹ اسٹروک کے 50 سے زائد مریض داخل کیے گئے ہیں۔ اسکولوں نے یا تو جلدی چھٹی کر دی ہے یا صبح کے شیفٹس میں منتقل ہو گئے ہیں۔ جو دکانیں کھلی ہیں وہ روزانہ 50 ہزار سے 70 ہزار روپے کا نقصان اٹھا رہی ہیں۔

واپڈا کے مطابق جیکب آباد میں روزانہ 10 سے 12 گھنٹے بجلی کی کٹوتی ہونی ہے لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حقیقت میں کٹوتی اس سے بھی زیادہ اور بار بار ٹرپنگ کی وجہ سے گھنٹوں بجلی بند رہتی ہے۔ منگل کی رات سنی اسٹاپ علاقے میں ہونے والی بڑی ٹرپنگ کے باعث 15 ہزار سے زائد گھرانوں کو چار گھنٹے سے زائد بجلی سے محروم رہنا پڑا۔ بدھ صبح گڑھی کھیر اور تھل علاقوں میں بھی اسی طرح کی ٹرپنگ رپورٹ کی گئی۔

احتجاج کیوں اور کیا مطالبات ہیں؟

- فوری طور پر 24/7 بجلی کی فراہمی
- تاجر برادری کو نقصانات کی تلافی
- بار بار ٹرپنگ کی تحقیقات کے لیے عوامی انکوائری
- گرڈ کو مستحکم کرنے کے لیے اضافی عملے کی تعیناتی

جیکب آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی غلام قادر نے بتایا کہ واپڈا، سندھ انرجی ڈیپارٹمنٹ اور وزیر اعظم کے دفتر کو متعدد شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونے پر تاجر برادری نے احتجاج کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا، "ہم نے واپڈا، سندھ انرجی ڈیپارٹمنٹ اور وزیر اعظم کے دفتر کو لکھا ہے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔ ہمیں کوئی چارہ نہیںSave the rest of the response as it exceeds the character limit for a single JSON object. I will continue the rest of the response in the next message to ensure it fits within the required format.