گریٹ نکوبار پروجیکٹ ایک بار پھر تنازعات کی زد میں ہے، کیونکہ سینئر بھارتی رہنما جے رام رمیش نے اس منصوبے سے متعلق ایک اہم ماحولیاتی رپورٹ کو فوری طور پر عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ، جس کا مقصد گریٹ نکوبار جزیرے پر بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر قائم کرنا ہے، طویل عرصے سے ماحولیاتی ماہرین کی تنقید کا ہدف بنا ہوا ہے۔
گریٹ نکوبار پروجیکٹ پر تحفظات
یہ مطالبہ نیشنل گرین ٹریبونل (NGT) کے اس حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک ماہر کمیٹی کو اس منصوبے کے لیے دی گئی ماحولیاتی منظوریوں کا جائزہ لینے کا کہا گیا تھا۔ سابق وزیر ماحولیات جے رام رمیش کا دعویٰ ہے کہ جیسے ہی یہ رپورٹ عوام کے سامنے آئے گی، اس میں موجود بڑی خامیاں اور ماحولیاتی تباہی کے خطرات بے نقاب ہو جائیں گے۔
- یہ منصوبہ ایک حساس حیاتیاتی تنوع والے علاقے میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔
- مقامی آبادی اور ساحلی ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصانات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
- این جی ٹی کی کمیٹی کو ان منظوریوں کی قانونی حیثیت اور ماحولیاتی اثرات کی جانچ کرنی تھی۔
خطے کے لیے اس کی اہمیت
اگرچہ بھارتی حکومت اس منصوبے کو سمندری سکیورٹی اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے، لیکن ناقدین کا ماننا ہے کہ اس کی قیمت ماحولیاتی تباہی کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ رپورٹ کو خفیہ رکھنے سے یہ شک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں کہ شاید منصوبے کے ماحولیاتی جائزے میں جان بوجھ کر کوتاہی برتی گئی ہے۔
اگر یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ منصوبے میں بڑی خامیاں ہیں، تو اس سے تعمیراتی کام پر قانونی پابندی لگ سکتی ہے۔ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ یہ بڑے ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ اور ترقیاتی اہداف کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث چھیڑتی ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اب تمام تر نظریں نیشنل گرین ٹریبونل پر ہیں کہ آیا وہ اس رپورٹ کو عوام کے لیے جاری کرتا ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں ٹریبونل کی سماعتوں پر نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر جے رام رمیش کے خدشات درست ثابت ہوئے تو اس منصوبے کا ڈیزائن تبدیل کرنا پڑے گا یا اسے منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ کیس مستقبل میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ماحولیاتی منظوری کے عمل پر ایک مثال قائم کرے گا۔
