جلال پور نہر کے تجرباتی دورانیے کے آغاز کے بعد سے ہی یہ تنازعہ پنجاب اور سندھ کے درمیان ایک بڑے صوبائی تصادم میں بدل گیا ہے۔ جیسے ہی پنجاب نے نہر کی گنجائش کو جانچنے کے لیے ٹرائل آپریشن شروع کیا، سندھ حکومت نے اس پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں، جس کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ اس کے نشیبی علاقوں میں زراعت کے لیے پانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

تنازعے کے اہم حقائق

- منصوبے کا نام: جلال پور نہر۔
- موجودہ صورتحال: حال ہی میں تجرباتی دورانیہ (Trial Operation) شروع کیا گیا ہے۔
- بنیادی تنازعہ: پنجاب کی جانب سے نہر کا نفاذ بمقابلہ سندھ کے پانی کی کمی کے خدشات۔
- قانونی حیثیت: سندھ کے اعتراضات کا باقاعدہ خلاصہ اس وقت مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) کے پاس زیر التواء ہے۔

جلال پور نہر کا تنازعہ اور تجرباتی مرحلہ

جلال پور نہر کا تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پنجاب کے حکام نے نہر کے تجرباتی دورانیے کا آغاز کیا۔ ٹرائل آپریشن ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے جس میں انجینئرز پانی کے دباؤ کے تحت نہر کی گنجائش، بہاؤ کی رفتار اور اس کی ساخت کی جانچ کرتے ہیں۔ اگرچہ پنجاب اسے اپنے کسانوں کے لیے پانی کی تقسیم کو بہتر بنانے کے لیے ایک ضروری قدم قرار دے رہا ہے، لیکن اس سے سندھ کے انتظامی حلقوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔

جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ کے رہائشیوں کے لیے، اس نئے چینل میں پانی کی آمد محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ دریائے سندھ کے نظام میں بہاؤ میں کوئی بھی تبدیلی فصلوں، بشمول کپاس اور گندم، کے لیے پانی کی دستیابی کو تبدیل کر سکتی ہے۔

سندھ اس نئے منصوبے پر احتجاج کیوں کر رہا ہے؟

سندھ کا احتجاج پانی کی چوری اور دریا کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے دیرینہ خدشات پر مبنی ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ جلال پور نہر، چاہے وہ تجرباتی مرحلے میں ہی کیوں نہ ہو، پانی کے ان اہم ذخائر کو موڑ سکتی ہے جو 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کے تحت قانونی طور پر سندھ کے حق میں ہیں۔

کراچی میں سرکاری حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نہر کا ڈیزائن اور اس کا آپریشنل شیڈول سندھ کے بالائی علاقوں کے بجائے پنجاب کی آبپاشی کی ضروریات کو ترجیح دے سکتا ہے۔ سندھ کے وہ کسان جو پہلے ہی نمکیات اور پانی کی کمی سے لڑ رہے ہیں، انہیں ڈر ہے کہ بہاؤ میں کسی بھی کمی سے ان کے اضلاع میں فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو سکتی ہیں اور معاشی تباہی آ سکتی ہے۔

مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) کا کردار

چونکہ پانی کا معاملہ صوبائی ہم آہنگی کا ہے، اس لیے اس تنازعے کا فیصلہ کوئی ایک صوبہ اکیلا نہیں کر سکتا۔ سندھ حکومت کے مخصوص شکایات اور تکنیکی اعتراضات پر مشتمل ایک خلاصہ مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) کو پیش کر دیا گیا ہے۔

مشترکہ مفادات کی کونسل وہ آئینی ادارہ ہے جسے وفاق اور صوبوں کے درمیان، یا صوبوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ جب تک کونسل اس خلاصے کا جائزہ لے کر کوئی ہدایت جاری نہیں کرتی، جلال پور نہر قانونی اور سیاسی طور سے غیر یقینی صورتحال میں رہے گی۔ کونسل کا فیصلہ پانی کے بہاؤ کے ڈیٹا کے تکنیکی جائزے اور موجودہ پانی کی تقسیم کے معاہدوں کی پاسداری پر منحصر ہوگا۔

کسانوں اور پانی کی تقسیم پر اثرات

اس تنازعے کے اثرات سب سے زیادہ زرعی شعبے میں محسوس کیے جائیں گے۔ اگر یہ نہر بغیر کسی اتفاق رائے کے مکمل طور پر فعال ہو جاتی ہے، تو اس کے نتیجے میں درج ذیل صورتحال پیدا ہو سکتی ہے:
- صوبائی اور اعلیٰ عدالتوں میں قانونی کارروائی میں اضافہ۔
- سندھ میں کسانوں کی جانب سے ممکنہ احتجاج۔
- موسمی بنیادی فصلوں کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ۔

عام شہری کے لیے، اس کا مطلب اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں عدم استحکام ہو سکتا ہے۔ جب پانی کے تنازعات سے آبپاشی کے چکر متاثر ہوتے ہیں، تو گندم اور گنے جیسی ضروری اشیاء کی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے، جس سے مقامی بازاروں میں مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ سندھ یا پنجاب کے نشیبی علاقوں میں کسان یا زراعت سے وابستہ فرد ہیں، تو آپ کو اپنے مقامی محکمہ انہار کے 'وارابی بندی' (پانی کے گردش کے شیڈول) پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ جلال پور نہر کے آپریشن میں تبدیلی سے آپ کے پانی کے مقررہ اوقات میں اچانک تبدیلی آ سکتی ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے دوران ایسی فصلیں لگانے سے گریز کریں جنہیں زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اور سرکاری پورٹلز کے ذریعے باخبر رہیں۔

آگے کیا نظر آئے گا؟

مندرجہ ذیل پیش رفتوں پر نظر رکھیں:
1. مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) کا اجلاس: کونسل کا وہ اجلاس جس میں سندھ کے خلاصے پر بحث ہوگی، سب سے اہم سنگ میل ہوگا۔
2. وفاقی وزارت آبی وسائل کا بیان: دیکھیں کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں کیا ثالثی کا کردار ادا کرتی ہے۔
3. ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا رپورٹس: ان آزادانہ رپورٹوں پر نظر رکھیں جو سندھ کے نشیبی علاقوں میں پانی کی سطح پر اثرات کا جائزہ لیں گی۔