جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ظالمانہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف 7 اگست 2026 کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے شہریوں کے لیے سڑکوں پر نکل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کا لائحہ عمل جاری کر دیا گیا ہے۔
7 اگست کے احتجاج کی تفصیلات
اگر آپ حافظ نعیم الرحمن کی اس کال میں شریک ہونا چاہتے ہیں، تو بدھ 7 اگست 2026 کو درج ذیل طریقے سے احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا:
- وقت: دوپہر یا شام 4:00 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
- طریقہ کار: ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عوام سڑکوں پر نکلیں گے اور احتجاجاً اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں سڑک پر ہی بند کر کے کھڑی کر دیں گے۔
- مقامات: ملک بھر کی اہم شاہہیں، چوراہ بنیادی گزرگاہیں اور شہروں کے مرکزی راستے اس دھرنے کا ہدف ہوں گے۔
- مطالبات: پیٹرولیم لیوی کا نفاذ فوری ختم کیا جائے، ظالمانہ ٹیکس واپس لیے جائیں، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور عام آدمی کو مہنگائی سے ریلیف دیا جائے۔
حکومت کے فیصلوں کے خلاف دباؤ
امیر جماعت اسلامی نے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں واضح کیا ہے کہ جب تک عوام سڑکوں پر نہیں نکلیں گے، حکمران اپنے عوام دشمن فیصلوں پر نظرثانی نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر غریب عوام پر ٹیکسوں کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں جبکہ اشرافیہ کی مراعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔
پیٹرولیم لیوی کو عوام کی جیبوں پر براہِ راست ڈاکہ قرار دیتے ہوئے جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس اضافی بوجھ کو ختم کرے۔ 7 اگست 2026 کو ٹریفک روکنے کا مقصد حکومتی ایوانوں تک عوام کی آواز کو پہنچانا ہے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
7 اگست 2026 کو سہ پہر کے وقت ملک کے بڑے شہروں میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر آپ کو اس دوران سفر کرنا پڑے تو دوپہر 3:00 بجے سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جائیں یا متبادل راستے اختیار کریں۔ احتجاج میں شرکت کرنے والے شہری اپنے قریبی جماعت اسلامی کے دفاتر سے رابطے میں رہیں۔
آئندہ کا لائحہ عمل
آنے والے دنوں میں ضلعی انتظامیہ کے اقدامات، ٹریفک پولیس کی ہدایات اور حکومت کی جانب سے ممکنہ ردعمل پر گہری نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومت اس احتجاج سے پہلے کوئی ریلیف پیکج لاتی ہے یا ملک بھر میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔
