جماعت اسلامی نے آج ملک بھر میں 510 مقامات پر دھرنوں اور سڑکیں بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد پیٹرول کی قیمت میں کمی اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ آج شام 4 بجے لاکھوں افراد حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے۔

پیٹرول کی قیمت اور حکومتی پالیسیوں پر تحفظات

جماعت اسلامی کی جانب سے حکومت کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں:
- حکومت فوری طور پر پیٹرولیم لیوی کو ختم کرے۔
- پیٹرول کی قیمت کو کم کر کے 225 روپے فی لیٹر کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور حکومت پیٹرول پر بھاری ٹیکس لگا کر عوام کا خون نچوڑ رہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بغیر ملک میں مہنگائی کے طوفان کو روکنا ناممکن ہے۔

احتجاج اور ممکنہ ٹریفک صورتحال

اگر آپ آج سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو محتاط رہیں کیونکہ ملک کے 510 مقامات پر دھرنوں کے باعث اہم شاہراہوں کی بندش متوقع ہے۔ احتجاج کا باقاعدہ آغاز شام 4 بجے ہوگا، تاہم مختلف شہروں میں کارکنان کی آمد سے ٹریفک کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے حکمرانوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر احتجاج کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں یا کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تو تحریک کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات منوانے کے لیے سخت موقف اپنانے کے لیے تیار ہے۔

عوام کے لیے ہدایات

شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں ٹریفک کی صورتحال پر نظر رکھیں اور بلاوجہ گھر سے نکلنے سے گریز کریں۔ احتجاجی مقامات سے دور رہنے کی کوشش کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔ آنے والے گھنٹوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت اس دباؤ کا کیا جواب دیتی ہے اور کیا مذاکرات کی کوئی راہ نکلتی ہے یا نہیں۔