جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پیٹرول کی قیمت فوری طور پر 225 روپے فی لیٹر کر دے۔ اگر یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو پارٹی جمعہ، 16 اگست 2024 کو کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے گورنر ہاؤسز کے ساتھ ساتھ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہاؤس لاہور کے باہر دھرنا دے گی۔ احتجاج صبح 10 بجے شروع ہو گا اور جاری رہے گا جب تک حکومت ان کا مطالبہ قبول نہ کر لے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت نے پچھلے دو ہفتوں میں پیٹرول کی قیمت میں 20.50 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر کے اسے اگست 2024 میں 259.42 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے الزام لگایا ہے کہ تازہ ترین اضافے نے عوام کے لیے زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے اور حکومت کی جانب سے مزید قیمت کو 225 روپے کرنے سے انکار عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ انہوں نے کہا، "حکومت تیل کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے جبکہ عوام مہنگائی کے نیچے دبتے جا رہے ہیں۔"

جماعت اسلامی کی کیا مانگ ہے؟

  • پیٹرول کی قیمت فوری طور پر 225 روپے فی لیٹر کرنے کا مطالبہ تاکہ مہنگائی سے عوام کو ریلیف مل سکے۔
  • 16 اگست 2024 کو گورنر ہاؤسز کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے ساتھ ساتھ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہاؤس لاہور کے باہر دھرنا۔ احتجاج صبح 10 بجے شروع ہو گا۔
  • حکومت کے مطالبے کو قبول کرنے تک کوئی سمجھوتہ نہیں، جیسا کہ حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے۔

پارٹی نے عوام سے بھی احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے کارروائی نہ کی تو تحریک مزید بڑھائی جائے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا، "ہم اس وقت تک نہیں رکے گے جب تک قیمت 225 روپے تک نہ پہنچ جائے۔"

حکومت کی اب تک کی کارروائی

حکومت نے اس مطالبے کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم، پچھلے دو ہفتوں میں وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں دو بار اضافہ کیا ہے:

  • پہلا اضافہ (1 اگست 2024): 12.50 روپے فی لیٹر کا اضافہ۔
  • دوسرا اضافہ (15 اگست 2024): 8 روپے فی لیٹر کا اضافہ۔

فی الحال 259.42 روپے فی لیٹر کی قیمت پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت 225 روپے کا مطالبہ قبول کر لیتی ہے تو پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کر جائے گی، جس سے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ پڑے گا۔ پہلے ہی خوراک کی مہنگائی 40 فیصد اور بجلی کے بلوں میں 50 فیصد اضافے کے بعد عوام پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

آپ پر کیا اثر پڑے گا؟

اگر حکومت 225 روپے کا مطالبہ قبول کر لیتی ہے تو آپ کی جیب پر کیا اثر پڑے گا:

  • پیٹرول کی قیمت: 225 روپے فی لیٹر (موجودہ 259.42 روپے سے زیادہ)۔
  • ٹرانسپورٹ پر اثر: بسوں، رکشوں اور ڈیلیوری چارجز میں فوری طور پر 20-30 فیصد اضافہ ہو گا۔
  • خوراک کی قیمتوں پر اثر: ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کے باعث چند دنوں میں تھوک اور خوردہ قیمتوں میں نئی لہر دیکھنے کو ملے گی۔
  • روز مرہ سفر کرنے والوں کے لیے: لاہور سے اسلام آباد (300 کلومیٹر) کے ایک طرفہ سفر پر ماہانہ 1,200 روپے کا اضافہ ہو گا۔
  • موٹر سائیکل مالکان کے لیے: 10 لیٹر ٹینک بھرنے پر ہر بار 250 روپے کا اضافہ ہو گا۔

حکومت نے اس ممکنہ قیمت میں اضافے کے مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ابھی تک کوئی ریلیف پیکج کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو 2024 کے آخر تک مہنگائی 30 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

  • 15 اگست 2024: حکومت کا اگلا شیڈولڈ پیٹرول قیمت کا جائزہ۔ کوئی فیصلہ مارکیٹ بند ہونے کے بعد اعلان کیا جائے گا۔
  • 16 اگست 2024: جماعت اسلامی کا گورنر ہاؤسز اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہاؤس لاہور پر دھرنا۔ چاروں شہروں میں ٹریفک ڈائیورسنز اور سڑکوں پر رکاوٹوں کا امکان ہے۔
  • 20 اگست 2024: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) جولائی-اگست کی مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کرے گا۔ ماہرین کو تیز اضافے کا امکان ہے۔
  • 31 اگست 2024: حکومت کا سالانہ بجٹ کا جائزہ، جہاں مزید سبسڈی میں کٹوتی یا ٹیکسوں میں اضافے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

  • اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں: پیٹرول کی سرکاری قیمت کی فہرست کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کی ویب سائٹ پر چیک کریں۔
  • آگے سوچیں: اگر آپ روزانہ سفر کے لیے پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں تو کارپولنگ، عوامی نقل و حمل کا استعمال یا 16 اگست کے ارد گرد سفر کے منصوبے بنائیں۔
  • گفتگو میں شامل ہوں: اپنے خیالات سوشل میڈیا پر #PetrolPriceRelief کا استعمال کرتے ہوئے شیئر کریں اور جماعت اسلامی کے رہنما @naeimurrehaman کو ٹگ کریں۔
  • معلومات حاصل کرتے رہیں: مقامی خبروں کے چینلز اور پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی مہنگائی ٹریکر پر ریئل ٹائم اپ ڈیٹس کے لیے نظر رکھیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟

یہ صرف پیٹرول کی قیمت کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ حکومت عوام کی آواز سنی گی یا تیل کمپنیوں اور بین الاقوامی قرض دہندگان کو ترجیح دیتی رہے گی۔ مہنگائی پہلے ہی 40 فیصد پر ہے، اور پیٹرول کی مزید قیمت میں اضافے سے لاکھوں لوگ غریب خطے میں دھکیل دیے جائیں گے۔ جماعت اسلامی کا احتجاج حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف ایک براہ راست چیلنج ہے—اور اس کا نتیجہ اگلے کئی مہینوں میں پاکستان کے مہنگائی کے بحران کی شکل طے کرے گا۔

16 اگست کے دھرنے عوامی غصے کا امتحان ہیں۔ اگر حکومت نے مطالبے کو نظر انداز کیا تو مزید احتجاجات، ہڑتالوں اور ممکنہ طور پر آنے والے ہفتوں میں ایک وسیع تر سیاسی بحران کا امکان ہے۔