پنجاب کے صحت کے شعبے میں دن رات کام کرنے والے صفائی ستھرائی کے کارکن شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ راولپنڈی اور جہلم اضلاع کے کئی اسپتالوں میں صفائی عملہ چار ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہے۔ ان غریب ملازمین کی تنخواہوں کی بندش سے ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے۔
مہنگائی کے اس دور میں چار ماہ تک معاوضہ نہ ملنا مزدور طبقے کے لیے پہاड़ جیسا بوجھ بن چکا ہے۔ متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ دکان داروں سے ادھار لے کر بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں جبکہ متعلقہ ٹھیکیدار اور اسپتال انتظامیہ فنڈز کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا رہی ہے۔
راولپنڈی اور جہلم کے کون سے اسپتال متاثر ہیں؟
تنخواہوں کی یہ عدم ادائیگی کسی ایک اسپتال تک محدود نہیں بلکہ اس نے پورے خطے کو اپنی لپیت میں لے رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی ضلع کے تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال گوجر خان، کلر سیداں، کہوٹہ اور ٹیکسلا کے صفائی کارکن چار ماہ سے خالی ہاتھ ہیں۔
یہی صورتحال ضلع جہلم میں بھی ہے جہاں سہاوا، دینہ اور پنڈدادنخان کے ٹی ایچ کیو اسپتالوں میں کام کرنے والے جنٹریل ورکرز کو بھی تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ یہ ملازمین اسپتالوں میں خطرناک طبی کشف اور وارڈز کی صفائی کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
ملازمین کی مشکلات اور روزمرہ زندگی
کم اجرت پر کام کرنے والے ان ورکرز کے پاس بچت کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ مکانات کے مالکان کرایے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، بجلی اور گیس کے بل جمع نہ ہونے پر کنکشن کاٹنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور بچوں کی اسکول فیس ادا نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم رک گئی ہے۔
- سات تحصیلوں کے اسپتالوں میں چار ماہ سے تنخواہیں بند
- ملازمین کا گھر چلانے کے لیے قرض اٹھانے پر مجبور ہونا
- بچوں کے اسکول کے اخراجات اور ادویات کی خریداری ناممکن ہونا
راولپنڈی اور جہلم کے ضلعی ہیلتھ حکام کی طرف سے تاحال کوئی واضح نوٹس یا ادائیگی کا شیڈول جاری نہیں کیا گیا جس سے ورکرز میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس مسئلے سے متاثر ہے تو آپ پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ یا صوبائی محتسب پنجاب کے پاس ہیلپ لائن نمبر 1050 پر باضابطہ شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ اپنی حاضری کے ریکارڈ اور ڈیوٹی روسٹر کو محفوظ رکھیں۔
آگے کیا ہوگا؟
محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کی طرف سے اس معاملے کا نوٹس لیے جانے کا امکان ہے۔ ضلعی انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کا آڈٹ کرے اور ورکرز کی بقایا تنخواہیں فوری طور پر جاری کی جائیں تاکہ اسپتالوں کا نظام متاثر نہ ہو۔
