جاپان کی حکومت نے مہنگائی کے خلاف لڑنے کے لیے خوراک پر سیلز ٹیکس 8 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پالیسی یکم اپریل 2027 سے نافذ ہوگی اور دو سال تک جاری رہے گی۔
پاکستان میں مہنگائی اور ٹیکس کا تناظر
ٹوکیو کا یہ فیصلہ عام آدمی کی قوت خرید کو بڑھانے کے لیے ہے، جبکہ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ یہاں ایف بی آر بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے اکثر اشیائے ضروریہ پر ٹیکس بڑھانے کو ترجیح دیتا ہے۔ جاپان کا یہ ماڈل ہمیں بتاتا ہے کہ اگر حکومت چاہے تو ریونیو کے بجائے عوام کی بنیادی ضروریات کو ترجیح دے سکتی ہے۔
آپ کی جیب پر اثرات
اگر پاکستان میں بھی اسی طرح کا اقدام اٹھایا جائے تو آٹا، چینی، دالوں اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں فوری کمی آ سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں پیکڈ فوڈ آئٹمز پر بھاری سیلز ٹیکس لاگو ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام شہری پر پڑتا ہے۔ تاہم، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا ہماری معیشت، جو پہلے ہی آئی ایم ایف کے دباؤ میں ہے، ٹیکس میں اس طرح کی چھوٹ کی متحمل ہو سکتی ہے یا نہیں۔
کیا دیکھنا ضروری ہے؟
آئندہ مالی سال 2027 تک درج ذیل چیزوں پر نظر رکھیں:
- پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ 'سینسٹیو پرائس انڈیکس' (SPI) کو باقاعدگی سے دیکھیں۔
- وفاقی بجٹ کے دوران اشیائے ضروریہ پر ٹیکسوں میں تبدیلی کے حکومتی اعلانات پر نظر رکھیں۔
- عالمی منڈی میں اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لیں، کیونکہ جاپان جیسے ممالک کے فیصلے عالمی سپلائی چین پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
فی الحال جاپان کا یہ فیصلہ پاکستان میں قیمتوں کو براہ راست متاثر نہیں کرے گا۔ اپنی گھریلو بچت کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے ماہانہ راشن کے اخراجات کا ریکارڈ رکھیں اور دیکھیں کہ آپ کتنا ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو، غیر خراب ہونے والی اشیاء کو تھوک کے بھاؤ خریدیں تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کسی بھی نئی ٹیکس پالیسی کے بارے میں جاننے کے لیے وزارت خزانہ کی ویب سائٹ اور مستند خبروں پر نظر رکھیں۔
