ٹیلی ویژن میزبان اور اداکارہ جویریہ سعود نے پاکستان میں خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد 'سائز زیرو' کے جنون میں مبتلا خواتین بالآخر 'چوسے ہوئے آم' جیسی لگنے لگتی ہیں۔

سائز زیرو کے جنون پر بحث

اپنے پوڈکاسٹ کے دوران جویریہ سعود نے خواتین پر انتہائی پتلا ہونے کے لیے ڈالے جانے والے سماجی دباؤ پر بات کی۔ جو لوگ سائز زیرو کے جنون کے رجحان کو دیکھ رہے ہیں، ان کے لیے جویریہ کے تبصرے اس جسمانی نقصان کی نشاندہی کرتے ہیں جو سخت ڈائٹنگ اور کاسمیٹک سرجریوں کی وجہ سے عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پتلے پن کو اکثر خوبصورتی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن 30 سال کی عمر کے بعد اس حد تک دبلا ہونے کی کوشش چہرے اور جسم کو صحت مند دکھانے کے بجائے کمزور بنا دیتی ہے۔

کاسمیٹک سرجری کا رجحان

گفتگو کے دوران اداکارہ نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا کس طرح جسمانی ساخت کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان نے بہت سی نوجوان لڑکیوں کو بھی متاثر کیا ہے، جو اب اپنے قدرتی خد و خال کو بدلنے کے لیے کاسمیٹک سرجری کا سہارا لینے لگی ہیں۔ پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ مغربی طرز کے جمالیاتی معیارات کا دباؤ ہماری خواتین کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ خوبصورتی کے معیارات پر ہونے والی اس بحث کو فالو کر رہے ہیں، تو اس بات پر غور کریں کہ آنے والے وقت میں مشہور شخصیات کی رائے کیسے بدلتی ہے۔ جیسے جیسے عوامی شخصیات اپنے پوڈکاسٹ کے ذریعے غیر فلٹر شدہ خیالات کا اظہار کر رہی ہیں، توقع ہے کہ کاسمیٹک بہتریوں کے اخلاقی پہلوؤں پر مزید بحث ہوگی۔ اپنی صحت کے حوالے سے فکر مند خواتین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے رجحانات کی پیروی کرنے کے بجائے کسی مستند نیوٹریشنسٹ یا طبی ماہر سے رجوع کریں۔

آخر میں، جویریہ سعود کے تبصرے ناظرین کے لیے ایک موقع ہیں کہ وہ 'فٹ' اور 'صحت مند' کی اپنی تعریف پر نظر ثانی کریں۔ جیسے جیسے یہ بحث آگے بڑھے گی، امید ہے کہ توجہ انتہائی وزن کم کرنے کے بجائے پائیدار صحت اور تندرستی پر مرکوز ہوگی۔