جبل علی بندرگاہ پر یکے بعد دیگرے سات دھماکے

متحدہ عرب امارات کے تجارتی مرکز دبئی میں واقع جبل علی کی بندرگاہ پر یکے بعد دیگرے سات زوردار دھماکے سنے گئے ہیں، جن کے بعد پورٹ کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے سیاہ بادل آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے گئے۔ ان اچانک دھماکوں نے بندرگاہ کے صنعتی علاقوں اور قریب کی بستیوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ہزاروں پاکستانی تارکین وطن جو اس خطے میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، ان دھماکوں کی خبر کے بعد اپنے پیغامات اور فون کے ذریعے خیریت دریافت کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ بندرگاہ دنیا کی سب سے بڑی انسان ساختہ بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور مشرق وسطیٰ کی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں پیش آنے والا کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے تجارتی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔

اماراتی حکام کی جانب سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا

دھماکوں کی شدت اور فضا میں اٹھنے والے دھوئیں کے بادلوں کے باوجود، متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام کی جانب سے جانی یا مالی نقصان کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ سول ڈیفنس اور ایمرجنسی کے عملے کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے، لیکن حکارتی سطح پر تاحال مکمل خاموشی ہے۔ واقعے کی اصل وجوہات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں مصدقہ معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہیں سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں، جن پر یقین کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ مصدقہ معلومات کے لیے صرف اماراتی حکومت کے سرکاری میڈیا اور مستند خبر رساں اداروں کے بلیٹن پر انحصار کرنا بہتر ہے۔

پاکستانی شہریوں اور اہل خانہ کے لیے ہدایات

اگر آپ کے رشتے دار یا دوست جبل علی فری زون یا دبئی کے اس علاقے میں کام کرتے ہیں، تو افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے براہ راست ان سے رابطے کی کوشش کریں۔ غیر ضروری گھبراہٹ پھیلانے سے گریز کریں اور اگر صورتحال خراب ہوتی ہے تو پاکستانی وزارت خارجہ یا امارات میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبروں سے رجوع کریں۔

آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع صورتحال

آئندہ گھنٹوں میں دبئی پولیس اور میڈیا آفس کی جانب سے پریس ریلیز متوقع ہے جس میں دھماکوں کی نوعیت واضح کی جائے گی۔ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا بندرگاہ پر معمول کی شپنگ اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہوئی ہیں یا انہیں بحال رکھا گیا ہے۔ حکومتی اعلانات کے بعد ہی جبل علی پورٹ کی مکمل صورتحال واضح ہو سکے گی۔