جہلم میں آنے والے حالیہ فلیش فلوڈز نے مقامی سڑکوں اور نکاسی آب کے نظام میں موجود سنگین نقائص کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے بعد مکینوں کو پانی میں ڈوبے ہوئے راستوں اور املاک کے نقصان کا سامنا ہے۔ ضلع کے مختلف علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غلط ڈیزائن کے کلورٹس اور ناکافی ڈرینج نیٹ ورکس اس اچانک سیلابی صورتحال کی بنیادی وجہ ہیں۔ جب تیز بارشیں ہوئیں تو پانی کے نکلنے کا کوئی مناسب راستہ نہیں تھا کیونکہ تعمیراتی کام پانی کے دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔
خراب ڈیزائن کے کلورٹس سیلاب کو کیسے بڑھاتے ہیں
بہت سے اضلاع میں انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی کے دوران ہائیڈرولوجیکل سروے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جب ٹھیکیدار تنگ کلورٹس کے ساتھ سڑکیں یا پل بناتے ہیں، تو یہ قدرتی رکاوٹیں بن جاتی ہیں جو ملبے کو روک لیتی ہیں اور طوفانی پانی کو رہائشی علاقوں کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ جہلم میں گھروں کے مالکان نے بے بسی سے پانی کو چند منٹوں میں بڑھتے اور کمروں میں داخل ہوتے دیکھا۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ متعلقہ اداروں نے ناقص سول ورکس کو بغیر تصدیق کے پاس کیا۔
اب شہریوں کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ ایسے نشیب و فراز والے علاقے میں رہتے ہیں جہاں بارش کا پانی جمع ہو جاتا ہے، تو آپ کو فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرنے چاہئیں:
- اپنے گھر کے باہر گلی کے نالوں کو صاف رکھیں اور رکاوٹیں دور کریں۔
- مقامی میونسپل دفاتر کے ہنگامی نمبرز اپنے پاس رکھیں۔
- بارش کی پیشگوئی کے دوران برقی آلات اور ضروری دستاویزات کو محفوظ اونچی جگہ پر منتقل کریں۔
- نقصان کی صورت میں تصاویر بنا کر ثبوت محفوظ رکھیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مواصلات پر عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ متاثرہ ترقیاتی کاموں کی شفاف تحقیقات کرائیں۔ آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا انتظامیہ ناقص ڈیزائن کے ذمہ دار ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کرتی ہے یا صرف عارضی لیت و لعل سے کام لیتی ہے۔ دیرپا حل اس بات پر منحصر ہے کہ حکومت آئندہ مون سون سے پہلے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بناتی ہے یا نہیں۔
