میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں شفافیت کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے، جس میں وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے بجائے زندہ گرفتار کیا جائے۔ جبران ناصر کا یہ بیان اس واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس کی جانب سے کی جانے والی مبینہ کوتاہیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

میر رضا قتل کیس میں تحقیقاتی خامیاں

جبران ناصر نے نشاندہی کی کہ ابتدائی تحقیقات میں سنگین تیکنیکی غلطیاں کی گئی ہیں۔ موقع واردات سے اہم شواہد کو پولیس نے بروقت محفوظ نہیں کیا، جس کے باعث کرائم سین کی اہمیت متاثر ہوئی۔ ان غلطیوں کی وجہ سے اس بات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ فرانزک شواہد ضائع ہو چکے ہیں، جو اصل مجرم تک پہنچنے کے لیے انتہائی اہم تھے۔

  • کرائم سین کو فوری طور پر سیل نہ کرنا اور شواہد کا ضائع ہونا۔
  • فرانزک رپورٹ کی ساکھ پر سوالات۔
  • کیس کو جلد نمٹانے کے لیے کسی بے گناہ کو پھنسانے کا خدشہ۔

بے گناہوں کو ملوث کرنے سے گریز

تیکنیکی خامیوں کے علاوہ، جبران ناصر نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ حکام عوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کسی بے گناہ کو قاتل قرار دے کر مار سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اصل قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، نہ کہ کسی کو جعلی مقابلے میں مار کر کیس بند کر دیا جائے۔ لواحقین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اصل مجرم کون ہے اور اس کے پیچھے کیا محرکات تھے۔

اب عوام کو کیا دیکھنا چاہیے؟

جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، اب سب کی نظریں سندھ پولیس کی کارکردگی پر ہیں۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تحقیقاتی عمل کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ فرانزک شواہد میں کسی قسم کی ردوبدل نہ ہو۔ اگر آپ اس کیس کو فالو کر رہے ہیں، تو عدالت میں جمع کرائی جانے والی چالان رپورٹ پر نظر رکھیں، کیونکہ اسی سے پتہ چلے گا کہ پولیس نے ٹھوس ثبوت اکٹھے کیے ہیں یا صرف مفروضوں پر کام کیا جا رہا ہے۔

اس عمل میں شفافیت ہی عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال کر سکتی ہے۔ عدالتی عمل کو نظر انداز کرنے کی کوئی بھی کوشش میر رضا کے قتل کے گرد انصاف کے تقاضوں کو مزید مشکوک بنا دے گی۔