جموں اینڈ کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے نئی دہلی کی مرکزی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے لیے ریاستی حیثیت کی بحالی کے وعدے کو جلد از جلد پورا کرے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کی برسی کے موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکام کو خطے کے عوام سے کیے گئے وعدوں کا پاس رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹک حکمرانی اور براہ راست وفاقی کنٹرول کسی بھی صورت میں منتخب مقامی انتظامیہ کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
کشمیر میں ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبات
خطے کے سیاسی حلقوں میں مقامی گورننس کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگست 2019 میں خطے کی آئینی حیثیت ختم کرنے سے شہریوں کو زمین اور ملازمتوں کے تحفظ سے محروم کر دیا گیا۔ فاروق عبداللہ نے نشاندہی کی کہ موجودہ نظام کے تحت عام خاندان شدید معاشی بے یقینی کا شکار ہیں۔ علاقائی خود مختاری کے بارے میں یہ بحث ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب سیاسی گروہ انتظامی امور کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔
علاقائی استحکام کے لیے اس کے مضمرات
پاکستان اور خطے کے دیگر حصوں کے مبصرین متنازع خطے کی آئینی حیثیت میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اسلام آباد کا موقف رہا ہے کہ نئی دہلی کے تمام یکطرفہ اقدامات سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستانی پالیسی ساز وادی کے اندر اٹھنے والی ان آوازوں کو وفاقی کنٹرول پر مقامی سطح کی شدید ناراضگی کا ثبوت قرار دیتے ہیں۔ اس صورتحال کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
- علاقائی رہنماؤں کی طرف سے 2019 کے صدارتی احکامات کو واپس لینے کے مطالبات
- مقامی افراد کے لیے ملازمتوں کے تحفظ اور زمینی حقوق پر عوامی بحث
- انتظامی تقسیم کے خلاف عدالتی فورمز پر زیر التوا قانونی چیلنجز
آئندہ کیا دیکھنا ہوگا
آپ کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ مرکزی حکومت خطے کے سیاسی رہنماؤں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا کیا جواب دیتی ہے۔ مبصرین اس امر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اپوزیشن جماعتیں آئینی ضمانتوں کے حصول کے لیے کوئی مشترکہ حکمت عملی بنا پاتی ہیں یا نہیں۔ قانونی چارہ جوئی کے نتائج بھی آنے والے مہینوں میں مقامی سیاست کی سمت کا تعین کریں گے۔
دو طرفہ تعلقات پر اس کے اثرات
وادی کے اندرونی سیاسی حالات کا براہ راست اثر اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان سفارتی تعلقات پر پڑتا ہے۔ اگرچہ مقامی سیاستدان بنیادی طور پر انتظامی حقوق اور معاشی مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، تاہم خارجہ امور کے ماہرین یہ پرکھ رہے ہیں کہ کیا یہ اندرونی دباؤ کنٹرول لائن کے دونوں جانب سیکیورٹی کی صورتحال کو متاثر کرے گا یا نہیں۔ فی الحال تمام تر توجہ علاقائی اسمبلیوں میں سیاسی جوڑ توڑ پر مرکوز ہے۔
