ملک میں بڑھتا ہوا job market crisis اس بات کا متقاضی ہے کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مصروف رکھنے کے بجائے ملازمت کے ٹھوس مواقع فراہم کیے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایچ ای سی سے منظور شدہ جامعات سے ہر سال لاکھوں فارغ التحصیل طلباء مارکیٹ میں آتے ہیں، لیکن نجی شعبے کی جانب سے نئی بھرتیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

روزگار کے بحران کی حقیقت

حالیہ معاشی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بڑی کمپنیوں نے اپنی بھرتیوں کے عمل کو سست کر دیا ہے۔ بجلی کے مہنگے ٹیرف، ایف بی آر کی ٹیکس پالیسیاں اور ایس بی پی کی جانب سے سود کی بلند شرح نے نجی کاروباروں کی کمر توڑ دی ہے، جس کا براہ راست اثر عام نوجوان کی ملازمت پر پڑ رہا ہے۔ ایک عام پاکستانی کے لیے اب مناسب تنخواہ والی نوکری تلاش کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔

ڈیجیٹل رجحانات اور زمینی حقائق

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ریلز یا ڈیجیٹل مواد روزگار کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ جب نیپرا کے بجلی کے بلوں اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کا بجٹ متاثر ہو رہا ہو، تو معاشی استحکام کے لیے صرف ڈیجیٹل مہارت کافی نہیں بلکہ صنعتی ترقی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو درکار ہے:

  • مارکیٹ کی طلب کے مطابق فنی تربیت (Vocational Training)۔
  • چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کے لیے آسانیاں۔
  • کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی تاکہ نجی کمپنیاں نئی بھرتیاں کر سکیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں تو صرف روایتی طریقوں پر انحصار نہ کریں۔ فری لانس مارکیٹ میں ڈیٹا اینالسٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر تکنیکی مہارتیں سیکھیں۔ لنکڈ ان جیسے پلیٹ فارمز پر پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ کریں، کیونکہ موجودہ حالات میں ریفرل کے ذریعے ملازمت ملنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

مستقبل پر نظر

آنے والے دنوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے لیے اعلان کردہ کاروباری اسکیموں اور بجٹ کی پالیسیوں پر نظر رکھیں۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے فیصلوں کو غور سے دیکھیں، کیونکہ یہی وہ فیصلے ہیں جو نجی شعبے کو نئی بھرتیاں کرنے یا نہ کرنے پر آمادہ کریں گے۔