معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور کامیڈین جنید اکرم نے اپنی نجی زندگی سے متعلق ایک اہم اور جذباتی انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے عوامی سطح پر یہ بات تسلیم کی ہے کہ ان کی اہلیہ انہیں ان کے بیٹے سے ملنے نہیں دے رہی ہیں، جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر یہ معاملہ بحث کا موضوع بن چکا ہے۔

ملاقات کے لیے ہر ممکن کوشش کا عزم

جنید اکرم نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے ہر ممکن قانونی اور اخلاقی راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک والد کے طور پر اپنے بچے سے دوری ان کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ انہوں نے اپنے مداحوں اور فالوورز سے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے حق کے حصول کے لیے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

پاکستان میں بچوں کی تحویل اور ملاقات کے قوانین

پاکستان میں خاندانی تنازعات اور بچوں کی حوالگی کے معاملات فیملی کورٹس کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اگر والدین کے درمیان باہمی رضامندی سے ملاقات ممکن نہ ہو، تو متاثرہ فریق 'گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ' کے تحت عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ عدالتیں عام طور پر بچے کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے ملاقات کا ایک شیڈول طے کرتی ہیں۔ جنید اکرم کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح نجی زندگی کے معاملات اکثر عوامی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔

مستقبل میں کیا ہوگا؟

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا جنید اکرم نے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کی ہے یا نہیں۔ تاہم، ان کے بیان سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مداح اب سوشل میڈیا پر اس معاملے کے حوالے سے مزید اپ ڈیٹس کا انتظار کر رہے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اسی قسم کی صورتحال سے گزر رہا ہے، تو بہتر ہے کہ کسی ماہر وکیل سے مشورہ کیا جائے تاکہ قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بچے سے ملاقات کا حق محفوظ بنایا جا سکے۔