گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم (کے-فور) کی لاگت میں 600 فیصد کا ہوشربا اضافہ پاکستان کے انفراسٹرکچر منصوبوں کی تاریخ میں ایک بڑا مالی بحران بن چکا ہے۔ کراچی میں پانی کی شدید قلت کو دور کرنے کے لیے شروع کیے گئے اس منصوبے کی لاگت، طویل تاخیر اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔

کے-فور منصوبے کی لاگت میں اضافے کی وجوہات

اس 600 فیصد اضافے کی بنیادی وجہ وقت کا ضیاع اور کرنسی کا عدم استحکام ہے۔ جب یہ منصوبہ ابتدائی طور پر منظور کیا گیا تھا، تو اس کی لاگت 25 ارب روپے کے لگ بھگ تھی۔ اب یہ اعداد و شمار اربوں روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ ہر گزرتا سال پرانے ٹھیکوں کو غیر متعلقہ بنا دیتا ہے اور نئی خریداریوں کے لیے مارکیٹ ریٹس پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث بہت مہنگے پڑتے ہیں۔

  • کرنسی کی قدر میں کمی: روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے درآمدی مشینری اور تکنیکی خدمات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
  • منصوبے میں تاخیر: بیوروکریٹک رکاوٹوں کی وجہ سے منصوبے پر کام بروقت شروع نہ ہو سکا، جس سے لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
  • مہنگائی کا دباؤ: اسٹیل، سیمنٹ اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے پرانے تخمینوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

کراچی کی واٹر سپلائی پر اثرات

کراچی کے شہریوں کے لیے یہ صرف بجٹ کے اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی کا بڑا بحران ہے۔ کے-فور سکیم کو شہر کو روزانہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کا مطلب ہے کہ شہریوں کو پانی کے لیے مہنگے ٹینکر مافیا پر انحصار جاری رکھنا پڑے گا۔

اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ منصوبہ ترجیحات میں شامل ہے، لیکن لاگت میں اس قدر اضافے کے بعد قومی خزانے پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ یہ مالی دباؤ پہلے سے ہی مشکلات کا شکار وفاقی اور صوبائی بجٹ کے لیے مزید مسائل پیدا کر رہا ہے۔

شہریوں کے لیے ہدایت

اگر آپ کراچی کے رہائشی ہیں اور پانی کی فراہمی کے بارے میں فکر مند ہیں، تو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (KWSB) کی آفیشل ویب سائٹ kwsb.gos.pk پر نظر رکھیں۔ چونکہ یہ منصوبہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے چل رہا ہے، اس لیے شہریوں کا حق ہے کہ وہ اپنے نمائندوں سے منصوبے کی شفافیت اور نئی ڈیڈ لائن کے بارے میں سوال کریں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

آئندہ دنوں میں سب سے اہم بات منصوبے کی تکمیل کی نئی تاریخ ہوگی۔ عوام اور سرمایہ کاروں کو نیشنل اکنامک کونسل (ECNEC) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاسوں پر نظر رکھنی چاہیے، جہاں منصوبے کے فنڈنگ ماڈل میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔ منصوبے میں مزید تاخیر کا مطلب لاگت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔