کراچی کے دیرینہ پانی کے بحران نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب قومی اسمبلی کے پارلیمانی جائزے کے دوران کے فور واٹر منصوبے میں ہونے والی ہولناک تاخیر پر ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق اس میگا انفراسٹرکچر منصوبے کے بقایا جات اور ادھورے کام کو مکمل کرنے کے لیے اب مزید 70 ارب روپے کے اضافی فنڈز درکار ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے معاشی حب میں رہنے والے لاکھوں شہریوں کے لیے اس مالی تعطل کا مطلب یہ ہے کہ پانی کی شدید قلت سے نجات کا خواب ابھی مزید طویل انتظار کا متقاضی ہے۔
فنڈز کی کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات
کے فور واٹر سپلائی اسکیم کو پچھلے ایک عشرے سے بیوروکریسی کی سستی، ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان اختیارات کی کھینچ تانی کا سامنا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اب پائپ لائنز اور پمپنگ اسٹیشنز کا بقیہ کام نمٹانے کے لیے 70 ارب روپے کی خطیر رقم درکار ہے۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتظامی غفلت کا ہر گزرتا مہینہ قومی خزانے پر بوجھ کئی گنا بڑھا رہا ہے۔
اسمبلی اجلاس کے دوران ارکان نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں جاری ہونے والے فنڈز کو کہاں استعمال کیا گیا اور منصوبے کی ڈیڈ لائنز بار بار کیوں توڑی گئیں۔ اگر فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر بجٹ میں رقم مختص نہ کی گئی تو متعلقہ ٹھیکیدار کام کی رفتار تیز نہیں کر پائیں گے۔
کراچی کے شہریوں پر اثرات
کراچی کو اس وقت روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں گیلن پانی کے بڑے خسارے کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو مجبراً مہنگے ٹینکر مافیا یا آلودہ بورنگ کے پانی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اورنگی ٹاؤن، بلدیہ اور ضلع مغربی سمیت کئی علاقے اس ناکامی کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
- کراچی میں پانی کا یومیہ خسارہ 500 ملین گیلن سے تجاوز کر چکا ہے
- ٹینکرز کے دام آسمان کو چھونے سے متوسط طبقے کا بجٹ متاثر ہو رہا ہے
- میونسپل حکام پائپ لائنوں کے ذریعے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے میں ناکام ہیں
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ پانی کے شدید بحران سے متاثرہ کسی علاقے میں مقیم ہیں تو اپنے علاقے کی یونین کونسل کے ٹینکرز کے اوقات کار پر نظر رکھیں اور گرمیوں کے دنوں میں پانی کے محتاط استعمال کو یقینی بنائیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) سے شفاف شیڈول کا مطالبہ کرنے والی مقامی کمیونٹی تنظیموں کی آواز میں آواز ملائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آئندہ وفاقی اور صوبائی مالیاتی بجٹ پر گہری نظر رکھیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مطلوبہ 70 ارب روپے باضابطہ طور پر منظور کیے جاتے ہیں یا نہیں۔ پارلیمنٹس کی جانب سے ایک سخت مانیٹرنگ کمیٹی کی رپورٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس سے آنے والے مہینوں میں پائپ لائنز کے جزوی آپریشن کی نئی تاریخیں سامنے آنے کی توقع ہے۔
