کراچی میں ڈیڑھ سالہ شیر خوار بچی کو ایک درندہ صفت قریبی رشتے دار نے اپنی حیوانیت کا نشانہ بنا ڈالا، جس سے پورے علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم بچی کا قریبی رشتے دار ہے اور وہ اکثر بچی کو چیزیں اور ٹافیاں دلانے کے بہانے اپنے ساتھ لے جایا کرتا تھا، جس کا اس نے ایک بار پھر گھناؤنا فائدہ اٹھایا۔
گھریلو ماحول میں بڑھتے ہوئے خطرات
اس لرزہ خیز واقعے نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ معصوم بچوں کو باہر کے اجنبیوں سے زیادہ اپنے ہی گھر کے ماحول میں موجود نام نہاد اپنوں سے خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ جب کوئی خونی رشتہ یا جان پہچان والا شخص ہی شکاری بن جائے تو والدین کے لیے اپنے بچوں کی حفاظت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ مقامی پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے اور میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
آپ کو بحیثیت والد یا والدہ کیا کرنا چاہیے؟
ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کے بعد والدین کو اپنے گھروں میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے سانحات سے بچا جا سکے:
- اپنے شیر خوار بچوں کو کسی بھی شخص، خواہ وہ کتنا ہی قریبی رشتے دار کیوں نہ ہو، اکیلے باہر یا کسی بند کمرے میں نہ جانے دیں۔
- خاندان کے افراد کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور بچوں کو تنہا چھوڑنے سے گریز کریں۔
- اگر آپ کو کسی بھی فرد کی نیت پر ذرا سا بھی شک گزرے تو فوراً پولیس یا متعلقہ چائلد پروٹیکشن ہیلپ لائن پر اطلاع دیں۔
- بچوں میں شعور بیدار کریں اور گھریلو ملازمین یا رشتہ داروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔
آگے کیا ہونے کی توقع ہے؟
اس معاملے پر سول سوسائٹی اور شہریوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملزم کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ آنے والے دنوں میں پولیس کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے اور میڈیکل بورڈ کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کا انتظار ہے، جس کے بعد کیس باقاعدہ ٹرائل کی طرف بڑھے گا۔
