کراچی کی ایک سیشن عدالت نے سال 2022 میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں 10 سالہ بچی کو اغوا اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج (ساؤتھ) عبدالحضور نے سنایا۔
کراچی kidnapping and gang-rape case کا پس منظر
عدالت نے غلام رسول اور محمد نامی ملزمان کو اغوا اور زیادتی کے دو الگ الگ الزامات میں عمر قید کی سزا کا حکم دیا۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے میڈیکل اور فرانزک شواہد نے اس کیس میں مرکزی کردار ادا کیا، جس کی بدولت عدالت نے ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا کا فیصلہ دیا۔
متاثرین کے لیے قانونی راستے
پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف کا حصول ایک طویل عمل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا کسی جرم کا شکار ہوتا ہے، تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروانا انتہائی ضروری ہے۔ سندھ پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر کال کریں یا چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے رابطہ کریں۔ ایف آئی آر کا بروقت اندراج کیس کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
قانون کے مطابق ملزمان کو سندھ ہائی کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس طرح کے ہائی پروفائل کیسز میں اکثر اپیل کا عمل دیکھا جاتا ہے۔ عوام اور انسانی حقوق کے کارکنان اس کیس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ متاثرہ بچی کو مکمل انصاف مل سکے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے مقامی عدالتوں کے فیصلوں اور پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیانات کو فالو کرنا ضروری ہے۔
