کراچی کی انتظامیہ نے شہر بھر میں گداگری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے، جس کا مرکزی نکتہ شہریوں سے 'نقد خیرات نہ دینا' ہے۔ یہ مہم خاص طور پر ان ٹریفک سگنلز کو ہدف بنا رہی ہے جہاں پیشہ ور گداگروں کا گروہ گاڑیوں کے درمیان گھوم کر بھیک مانگتا ہے۔
کراچی میں گداگری کا مسئلہ
کراچی کے ٹریفک سگنلز پر سرخ بتی جلتے ہی گاڑیوں کی قطاریں رک جاتی ہیں اور اسی لمحے کئی چھوٹے بڑے ہاتھ گاڑیوں کی کھڑکیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ کوئی پھول لیے کھڑا ہے، کوئی قلم، کوئی تسبیح، تو کوئی غبارے تھامے ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی مدد معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک منظم مافیا کا حصہ ہے جو شہر کے ٹریفک نظام اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہا ہے۔
نقد خیرات کیوں نہ دیں؟
حکام کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر نقد رقم دینے سے ضرورت مندوں کی مدد نہیں بلکہ اس کاروبار کو فروغ ملتا ہے۔ بہت سے گداگروں کے پیچھے منظم گروہ کارفرما ہیں جو ان سے دن بھر کی کمائی کا بڑا حصہ خود رکھ لیتے ہیں۔
- ٹریفک کے مسائل: سگنلز پر گداگروں کی موجودگی سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور حادثات کا خدشہ رہتا ہے۔
- استحصال: سڑکوں پر نظر آنے والے بچوں اور خواتین کا اکثر استحصال کیا جاتا ہے، اور انہیں زبردستی بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
- سماجی اثرات: جب شہری سڑکوں پر بلا سوچے سمجھے پیسے دیتے ہیں، تو یہ ان گروہوں کے لیے ایک منافع بخش دھندہ بن جاتا ہے، جس سے گداگری میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا ہے۔
شہریوں کے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟
اگر آپ واقعی کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو سڑکوں پر نقد رقم دینے کے بجائے مستند فلاحی اداروں، یتیم خانوں، یا راشن فراہم کرنے والی تنظیموں سے رابطہ کریں۔ آپ کی دی گئی رقم کسی مستحق کی تعلیم، خوراک یا علاج پر خرچ ہونی چاہیے، نہ کہ کسی مافیا کی جیب میں۔ جب شہری سگنلز پر پیسے دینا بند کر دیں گے، تو ان گروہوں کا معاشی مفاد ختم ہو جائے گا اور گداگری کا یہ سلسلہ خود بخود کمزور پڑ جائے گا۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
شہری اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا انتظامیہ اس آگاہی مہم کے بعد ان گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے گی یا نہیں۔ گداگری کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں کو بازیاب کروا کر بحالی کے مراکز میں بھیجا جائے اور ان کے پیچھے موجود نیٹ ورک کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
